سٹی 42: وزارت اطلاعات و نشریات نے کوہاٹ میں نماز جمعہ کے دوران شہریوں اور پولیس اہلکاروں پر دہشتگرد حملے کی شدید مذمت کی ہے۔
وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق کوہاٹ حملہ افغانستان میں جڑیں رکھنے والے خوارج نے کیا، دہشتگردی کا کوئی مذہب یا جواز نہیں بنتا فتنہ الخوارج اور دیگر دہشتگرد گروہوں کی جانب سے افغان سرزمین کے استعمال پر وزارت اطلاعات و نشریات نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں دہشتگردوں کی پناہ گاہیں اور بھرتیاں پاکستان کی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔
وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے پاکستان کو سنگین نتائج کی دھمکی کی مذمت کرتے ہوئے کہا افغان طالبان ذمہ داری سے بھاگنے اور پاکستان پر الزام تراشی کے بجائے اپنی سرپرستی میں پلنے والے دہشتگرد نیٹ ورکس کا خاتمہ کریں افغان عبوری حکومت دوحہ معاہدے کے تحت اپنی انسداد دہشتگردی کی ذمہ داریاں پوری کرے۔
وزارت اطلاعات نے مزید کہا کہ افغان وزارت خارجہ کی جانب سے کوہاٹ حملے کی مذمت کافی نہیں، زبانی ہمدردی کو ٹھوس اور قابلِ تصدیق کارروائیوں میں بدلنا ہوگامذاکرات کے نام پر پاکستانی عوام کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے والوں کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔
وزارت اطلاعات کے مطابق پاکستان اپنے شہریوں، حدود اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قوانین کے تحت ہر ضروری قدم اٹھائے گا اور دہشتگردی کے خطرات کو ہر جگہ سے ختم کرنے کا مکمل عزم اور صلاحیت رکھتا ہے۔
وزارت اطلاعات نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ افغان طالبان پر دباؤ ڈالا جائے تاکہ یہ خطرہ پورے خطے میں پھیلنے سے پہلےموثر فیصلہ کن کارروائی کی جائے۔