ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاک سعودی دفاعی معاہدے کے تحت ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور ہو گا؛ ترجمان دفتر خارجہ

پاک سعودی دفاعی معاہدے کے تحت ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور ہو گا؛ ترجمان دفتر خارجہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42 : ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعلقات 1960 سے جاری ہیں، موجودہ باہمی تزویراتی دفاعی معاہدہ کسی تیسرے ملک کے لیے خطرہ کے طور پر استعمال  نہیں ہو گا، معاہدے کے تحت ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور ہو گا۔ 

ان خیالات کا اظہار ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کیا، کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کا دورہ کیا، یہ دورہ وزیراعظم نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی دعوت پر کیا، وزیر اعظم نے سعودی قیادت کے ساتھ تزویراتی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ انہوں نے بتایا کہ معاہدے کے تحت ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور ہو گا۔ 

 ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیر اعظم نے خادم الحرمین الشریفین سلمان بن عبد العزیز کے لیے نیک تمناوں کا اظہار کیا۔ وزیر خارجہ نے دوحہ میں او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کی۔ وزیر اعظم نے دوحہ میں ہنگامی او آئی سی سربراہی اجلاس میں شرکت کی۔ مسلح افواج کے سربراہ بھی دوحہ موجود تھے۔ وزیر اعظم نے فلسطین کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا، انہوں نے قطر پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی، وزیر اعظم نے قطر کی علاقائی سالمیت و خودمختاری کی خلاف ورزی کی مذمت کی۔ 

ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا کہ صدر مملکت چین کا دورہ کر رہے ہیں، انہوں نے شنگھائی اور چنگڈو کے دورے کیے۔ انہوں نے بتایا کہ 16ستمبر کو نائب وزیراعظم سے جرمن وزیر خارجہ کا ٹیلی فون رابطہ ہوا۔ اسحاق ڈار سے گذشتہ روز مصری وزیر خارجہ نے ٹیلیفون رابطہ کیا۔ 13 ستمبر کو امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے نائب وزیراعظم سے رابطہ کیا۔ 

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان مختلف ممالک کے ساتھ مل کر ثابت قدم امدادی بحری بیڑے کے خلاف کسی اقدام کا مخالف ہے۔ بین الاقوامی پانیوں میں ثابت قدم فلوٹیلا پر کسی قسم کے حملے سے باز رہنے کی اپیل کرتے ہیں۔ 

ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی تعلقات منفرد,  طویل المدت ہیں، دونوں ممالک کی قیادت باہمی قیادت ان تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانا چاہتی ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعلقات 1960 سے جاری ہیں، موجودہ باہمی تزویراتی دفاعی معاہدہ کسی تیسرے ملک کے لیے خطرہ کے طور پر استعمال  نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی راہنماوں کو نصیحیت کرتے ہیں کہ وہ اپنے نقصانات کا جائزہ لیں، بھارت کی پاکستان کی طرف سے جوہری خطرے کی تنبیہہ ایک مس انفارمیشن ہے۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم کی اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں تقریر کی تاریخ سے جلد مطلع کریں گے، بھارت کی جانب سے دیگر ممالک میں دہشت گردی کے شواہد موجود ہیں، پاکستان بہت سے سکھ مقامات کا کسٹوڈین ہے، ابھی تک بھارت کی جانب سے سکھ یاتریوں کو روکنے یا ویزے جاری نہ کرنے کی سرکاری طور پر اطلاع نہیں دی گئی، تاہم بھارت ایک طویل عرصہ سے سکھ یاتریوں کو پاکستان آمد سے روک رہا ہے، گردوارہ کرتار پور صاحب مکمل طور پر فعال ہے۔ 

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیر اعظم کا بیان نہایت واضح ہے، وزیر اعظم نے کہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ اچھے ہمسائیگی والے تعلقات چاہتے ہیں، وزیر اعظم کا بیان افغانستان کو سفارتی زرائع سے بھجوایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نمائندہ خصوصی صادق خان کا دورہ معمول کا دورہ ہے، جونہی ان کا نیا دورہ افغانستان طے ہو گا ہم میڈیا کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کریں گے۔ 

انہوں نے کہا کہ ہم زلمے خلیل زاد کے بیانات کا جواب نہیں دیتے، بگرام کا معاملہ کابل میں افغان حکومت اور امریکی حکومت کا باہمی معاملہ ہے۔ 

ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا کہ پاک سعودی عرب دفاع اور معاشی تعلقات جہت میں مختلف ہیں، پاک سعودی عرب باہمی تزویراتی معاہدے میں دفاعی پیداوار پر تبصرہ نہیں کر سکتے، تاہم پاکستان سعودی عرب دفاعی تعلقات ایک طویل المدت تعلقات ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارا جوہری ڈاکٹرائن ہماری اندرونی دستاویز ہے، اس کا دیگر ممالک سے کوئی لینا دینا نہیں ، ہمارا جوہری ڈاکٹرائن انتہائی واضح ہے، حالیہ ایران اسرائیل تناو میں ہمارا موقف انتہائی واضح تھا۔