ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ میں قتل کے ملزم منہاق جمیل کی ضمانت سے متعلق کیس کی سماعت ، عدالت نے میڈیکل سپرنٹینڈنٹ کو ڈاکٹروں کا نیا بورڈ تشکیل دے کر آئندہ سماعت پر رپورٹ طلب کرلی.
جسٹس علی ضیاء باجوہ نے شہری محمد ذیشان سمیت دیگر درخواست گزاروں کی درخواستوں پر سماعت کی ،سماعت کے دوران ایڈیشنل آئی جی انویسٹیگیشن پنجاب شہزادہ سلطان، ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل حافظ اصغر اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب عدالت میں پیش ہوئے۔ جسٹس علی ضیاء باجوہ نے ریمارکس دیے کہ 23 سال گزرنے کے باوجود پولیس آرڈر 2002 کے رولز تشکیل نہیں دیے گئے۔ ایڈیشنل آئی جی انویسٹیگیشن نے جواب دیا کہ رولز پر کام جاری ہے لیکن ابھی تک فائنل نہیں ہوئے۔عدالت نے استفسار کیا کہ بری یا منسوخ شدہ مقدمات کو کیا کریکٹر سرٹیفکیٹ پر ظاہر کرنا ضروری ہے؟ اور ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھایا کہ کون سے مقدمات کا اندراج ہونا چاہیے اور کون سے کا نہیں؟ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کی معاونت کی جبکہ ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے بتایا کہ عدالت سے مفرور قرار دینے کا ایک باقاعدہ طریقہ کار ہے۔ ایڈیشنل آئی جی انویسٹیگیشن نے کہا کہ عدالتی اشتہاریوں کا بھی ریکارڈ موجود ہوتا ہے۔جسٹس علی ضیاء باجوہ نے ریمارکس دیے کہ پولیس اپنے لیے مقدمات کا ریکارڈ ضرور رکھے لیکن کریکٹر سرٹیفکیٹ پر ہر مقدمے کا اندراج کیسے ممکن ہے؟ اگر کسی طالب علم کو بریت کے بعد یونیورسٹی میں داخلہ لینا ہو تو اسے بھی مشکلات پیش آئیں گی۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ مفاد عامہ میں بیلنس کرنا ضروری ہے، اس لیے یا تو سنگل بنچ کے فیصلے پر عمل درآمد کیا جائے یا پھر اسے چیلنج کر دیا جائے۔ ایڈیشنل آئی جی نے عدالت سے مہلت مانگی اور کہا کہ دو ہفتے کا وقت دیا جائے۔دوران سماعت ایڈووکیٹ ہمایوں رشید نے ایک مثال دی کہ ایک شہری بکرا لے کر منڈی گیا جس کے خلاف مقدمہ درج ہوا، بعد ازاں وہ شہری مڈل ایسٹ میں ملازمت کے حصول سے محروم ہوگیا۔ جسٹس علی ضیاء باجوہ نے ریمارکس دیے کہ عدالت کو دیگر ممالک کے اسی نوعیت کے ماڈل سے بھی معاونت فراہم کی جائے۔عدالت نے درخواست گزار وکیل کو بھی تیاری کے لیے وقت دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App