ویب ڈیسک: ڈی سی صوابی کو ٹک ٹاک ویڈیوز شیئر کرنا مہنگا پڑگیا , پشاور ہائیکورٹ نے ڈی سی صوابی کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کرلیا۔
رپورٹ کے مطابق بغیر اجازت ویڈیوز ڈی سی کے آفیشل پیج سے شیئر کرنے کے خلاف دائر درخواست پر جسٹس نعیم انور اور جسٹس ڈاکٹر خورشید اقبال نے سماعت کی۔
وکیل درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ ڈی سی نے صوابی ویمن یونیورسٹی میں سپورٹس گالا میں شرکت کی، وہاں پر ٹک ٹاک ویڈیوز بنائیں اور پھر آفیشل پیچ پر شیئر کردیں. اُن کا کہنا تھا کہ ویڈیوز بغیر اجازت شیئر کی گئیں جس سے خواتین کی پرائیویسی متاثر ہوئی۔
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ڈی سی رمضان کے مہینے میں بھی ٹک ٹاک ویڈیوز بناکر انڈین اور پشتو گانوں کے ساتھ اپلوڈ کر رہے ہیں اور اپنی ذاتی تشہیر کر رہے ہیں ، یہ اختیارات کا غلط استعمال ہے۔
وکیل درخواست گزار نے مزید کہا کہ عدالت ڈی سی کو اس عمل سے روکے اور آفیشل پیچ سے ویڈیوز ڈیلیٹ کی جائیں۔
عدالت نے ابتدائی دلائل کے بعد ڈی سی کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کرلیا ہے۔