ٹریفک پولیس میں بڑے پیمانے پر بےضابطگیاں سامنے آگئیں

ٹریفک پولیس میں بڑے پیمانے پر بےضابطگیاں سامنے آگئیں

علی ساہی: ٹریفک ہیڈ کوارٹر میں 2014 سے 2017 کے ریکارڈ کے خصوصی آڈٹ میں مبینہ طور پر 50 کروڑ کے قریب بے ضابطگیاں سامنے آگئیں، آئی جی پنجاب نے ملوث افسران واہلکاروں کے خلاف مزید انکوائری کے لئے معاملہ اینٹی کرپشن کو بھجوا دیا۔

تفصیلات کے مطابق ٹریفک پولیس ہیڈ کوارٹر میں آئی جی افس کی جانب سے 2017 سے 2019 کے ریکارڈ کی انکوائری میں کرپشن ثابت ہونے پر اکاؤٹینٹ اختر سعید شاہ اور اس کا ساتھی کانسٹیبل عابد 12 کروڑ سے زائد کی کرپشن میں گرفتار ہیں۔ کرپشن کے پیش نظر مزید پچھلے 3 سال کا آڈٹ کروانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ جس میں سی پی او کی خصوصی ٹیم نے 2014 سے 2017 تک کے ریکارڈ کامکمل اڈٹ کیا۔

پولیس حکام کے مطابق 29 کروڑ کے فنڈز کے استعمال کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے جبکہ 21 کروڑ کے فنڈز میں بے ضابطگیاں اور خورد برد سامنے آیا ہے، جس میں اکاؤٹنٹ اختر سعید شاہ کو ذمہ دار ٹھہرایا جارہا ہے جبکہ 3 سالوں کے دوران 2 ایڈیشنل آئی جیز اور 3 ڈی آئی جیز کی تعیناتی وہاں رہی جن کے پاس فنڈز کے استعمال کے اختیارات تھے۔

آڈٹ ٹیم کی رپورٹ کے بعد معاملہ انٹرنل اکاؤٹیبلٹی برانچ میں بھجوایا گیا جس کو آئی جی پنجاب کی مشاورت کے بعد ذمہ داران کے تعین کے لئے انکوائری انٹی کرپشن کو بھجوا دی گئی ہے۔ اس سے پہلے بھی 12 کروڑ کے قریب فنڈز کے خورد برد اور کرپشن انکوائری میں ثابت ہونے کے بعد اکاؤٹینٹ اخترسعید شاہ اور کانسٹیبل عابد گرفتار ہیں۔

دوسری جانب سٹی ٹریفک پولیس سے بھجوائے گئے وارڈنز تین ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں،ٹریفک پولیس ذرائع کے مطابق تین ماہ قبل سٹی ٹریفک پولیس سے 128 ٹریفک وارڈنز کو ڈیپوٹیشن پر رنگ روڑ پولیس میں بھجوایا گیا تھا۔ مگر رنگ روڈ پولیس میں جوائننگ نہ ہونے کے باعث تنخواہیں بند ہو گئیں۔ تین ماہ گزرنے کے بعد بھی ٹریفک وارڈنز کو رنگ روڈ پولیس میں تعینات نہیں کیا جا سکا۔

تنخواہیں نہ ملنے سے ٹریفک وارڈنز کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں۔ رنگ روڈ سے واپس ٹریفک پولیس میں آنے والے وارڈنز نے بقایا جات نہ ملنے پر کیس کر رکھا ہے، افسران کی عدم توجہی کے باعث ٹریفک وارڈنز خوار ہو کر رہ گئے ہیں۔