نواز شریف لانگ مارچ اوراستعفوں کے معاملے پر ڈٹ گئے

 نواز شریف لانگ مارچ اوراستعفوں کے معاملے پر ڈٹ گئے

 (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف استعفوں اور لانگ مارچ کے معاملے پر ڈٹ گئے، ان کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ ہو گا اور ہم استعفے دیں گے۔

پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں دونوں رہنما ہر حال میں لانگ مارچ کرنے اور استعفے دینے پرمتفق ہیں، مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کے جواب کا انتظار ہے جبکہ میاں نوازشریف نے کہا کہ لانگ مارچ ہوگا، ہم استعفے دیں گے، دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیاکہ کارکن لانگ مارچ کی تیاریاں جاری رکھیں۔

دریں اثنا مولانا فضل الرحمان نے جے یو آئی ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم جیل جانے سے نہیں گھبراتے، جو جیل نہیں جا سکتا وہ سیاست میں کیوں ہے؟ طاقت ور قوتیں ملک کی محافظ بنیں، ناجائز حکومت کی نہیں، اڑھائی سال میں ملکی معیشت کوتباہ کردیا گیا، ملک پر ناجائز اور نا ماہل حکومت مسلط ہے، ہم کب تک اپنی نا اہلی کا ملبہ پچھلی حکومتوں پر ڈالتے رہیں گے؟ 5 سال گزر جائیں گے اور آپ اسی طرح ملبہ پچھلی حکومتوں پر ڈالتے رہیں گے، اپنی نا اہلی تسلیم کرو اور اقتدار چھوڑ دو، ہماری قربانیاں آگے بڑھنے کیلئے ہیں، پیچھے جانے کیلئے نہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیاست بزدلی کا نام نہیں، جرات کا نام ہے اور جے یو آئی قوم کو مایوس نہیں ہونے دے گی، اگر کوئی سمجھتا ہے کہ آئین سے اسلامی دفعات ختم کی جائیں تو سن لو جب تک جمعیت ہے اس وقت تک ایسا ممکن نہیں ،ہم اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں ہونے دیں گے۔

قبل ازیں مولانا فضل الرحمان نے صوبائی عہدیداروں کے نام ایک خط میں انہیں لانگ مارچ کی تیاریاں جاری رکھنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ کی تیاریوں میں کسی قسم کی سستی کا مظاہرہ نہ کریں، تمام صوبائی جماعتیں لانگ مارچ کی تیاریاں جاری رکھیں، پی ڈی ایم کی 9 جماعتیں استعفوں اور لانگ مارچ پر متفق ہیں۔