عیسیٰ ترین: بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ پر عام بحث کے دوران حکومتی اور اپوزیشن اراکین نے صوبے کو درپیش مسائل، ترقیاتی منصوبوں، سی پیک، گورننس اور وفاقی رویے پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔
جماعت اسلامی کے رکن ہدایت الرحمن نے بجٹ بحث کے دوران چیف سیکرٹری اور دیگر سیکرٹریز کی عدم موجودگی پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ایوان میں بجٹ پر بحث جاری ہے لیکن متعلقہ حکام کی عدم موجودگی افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر کے 313 اسکول فعال ہیں جبکہ صحت کے 54 مراکز میں سے 10 بند ہیں۔ ان کے مطابق بلوچستان میں لاکھوں بچے تعلیم سے محروم، 11 لاکھ بچے غذائی قلت کا شکار اور بڑی آبادی صاف پانی سمیت بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔
ہدایت الرحمن نے سی پیک کے ثمرات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے وسائل کے باوجود صوبہ ترقی کے ثمرات سے محروم ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بیوروکریسی میں کرپشن اور کمیشن کا نظام موجود ہے جبکہ عوام بنیادی سہولتوں کے لیے مشکلات کا شکار ہیں۔
پیپلز پارٹی کے رکن صادق عمرانی نے بجٹ کو عوامی مسائل کے حل کی جانب ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کو وفاق کی جانب سے مطلوبہ وسائل فراہم نہیں کیے جا رہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں دہشت گردی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور امن کے قیام کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سرکاری ملازمتوں کی فروخت کے الزامات کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔
صوبائی وزیر سلیم کھوسہ نے بجٹ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے بنیادی مسائل کے حل کو ترجیح دی ہے اور اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے کی پالیسی اپنائی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے موجودہ مسائل ماضی کی پالیسیوں کا نتیجہ ہیں جبکہ وفاق نے ہمیشہ صوبے کے ساتھ تعاون کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان کے عوام اور منتخب نمائندے دہشت گردی کے خلاف متحد ہیں۔
اپوزیشن رکن رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ عوام کو ریلیف دینا اچھی حکمرانی کی علامت ہے، تاہم وفاقی بجٹ میں بلوچستان کے لیے نئی اسکیموں اور جاری منصوبوں کے لیے ناکافی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبے کے حالات کے پیش نظر وفاق بلوچستان پر خصوصی توجہ دے۔
صوبائی وزیر عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ بیشتر اراکین اسمبلی اپنے حلقوں میں متحرک ہیں اور عوامی مسائل کے حل کے لیے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے ملک میں امن اور معاشی استحکام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
بجٹ پر بحث کے دوران اراکین نے تعلیم، صحت، روزگار، انفراسٹرکچر، سی پیک، گورننس اور وفاقی وسائل کی تقسیم جیسے اہم موضوعات پر اظہار خیال کیا جبکہ صوبے کی ترقی اور عوامی فلاح کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا۔