ملک اشرف: پنجاب بار کونسل نے قانون کی مبینہ جعلی اور غیر تصدیق شدہ ڈگریوں کے معاملے پر بڑی کارروائی کرتے ہوئے 1133 وکلاء کے لائسنس معطل کر دیے ہیں۔ کارروائی ان وکلاء کے خلاف کی گئی جنہوں نے اپنی لاء ڈگریوں کی مطلوبہ تصدیق مکمل نہیں کرائی تھی۔ اس حوالے سے پنجاب بار کونسل کی جانب سے باضابطہ اعلامیہ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق شاہ عبداللطیف بھٹائی یونیورسٹی سے حاصل کی گئی ڈگریوں کے حامل مزید 62 وکلاء کے لائسنس بھی معطل کر دیے گئے ہیں۔ اس سے قبل گزشتہ ہفتے بھی اسی یونیورسٹی سے وابستہ 125 وکلاء کے لائسنس معطل کیے جا چکے تھے، جبکہ تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔
پنجاب بار کونسل نے شاہ عبداللطیف بھٹائی یونیورسٹی کی بنیاد پر اینٹی میشن جمع کروانے والے مزید 128 افراد کو بھی آخری موقع دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ وہ 25 جولائی کو اصل دستاویزات، ڈگریوں کے ثبوت اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) سے ڈگری کی تصدیق کے ہمراہ ایگزیکٹو کمیٹی کے روبرو پیش ہوں۔
بار کونسل کے مطابق جعلی یا بوگس ڈگریوں کی بنیاد پر وکالت کا لائسنس حاصل کرنے کے شبہ میں متعدد افراد کو شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے گئے ہیں۔ متعلقہ افراد کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقررہ تاریخ پر تمام ریکارڈ اور اصل دستاویزات پیش کریں، بصورت دیگر ان کے خلاف مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
پنجاب بار کونسل نے واضح کیا ہے کہ جو افراد مقررہ وقت میں اپنی ڈگریوں کی تصدیق اور مطلوبہ شواہد پیش کرنے میں ناکام رہے، ان کے خلاف مقدمات درج کروانے سمیت سخت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
یہ کارروائی چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی پنجاب بار کونسل فخر حیات اعوان کی منظوری سے کی گئی۔ فخر حیات اعوان کا کہنا ہے کہ جعلی یا بوگس ڈگریوں کی بنیاد پر وکالت کا لائسنس حاصل کرنے والوں کے خلاف کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی اور قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ جن وکلاء کی ڈگریاں درست ہیں، وہ ہائر ایجوکیشن کمیشن سے تصدیق مکمل ہونے کے بعد ایگزیکٹو کمیٹی سے رجوع کر سکتے ہیں، جہاں ان کے کیسز کا قانون کے مطابق جائزہ لیا جائے گا۔