سٹی42: قومی احتساب بیورو (نیب)نے ترقیاتی منصوبوں کے 40ارب روپے کھا جانے کے میگا کرپشن سکینڈل میں 8 اہم ملزموں کو گرفتار کرلیا جن میں 2 سرکاری افسر، 2 بینکرزاور 4 ٹھیکیدار شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق کوہستان خیبر پختونخوا میں پکڑے گئے اس میگا کرپشن کیس میں گرفتار کئے گئے ملزموں پر جعلی چیکوں کی منظوری ، منی لانڈرنگ اور بے نامی اکاؤنٹس کے ذریعہ غبن کا الزام ہے۔
اس کرپشن کیس میں ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفیسر کا مرکزی کردار ہے۔ خیبر پؒتونخوا صوبے کے اس سب سے بڑے کرپشن سکینڈل کی تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے، مزید گرفتاریوں کا امکان ہے۔ یہ بھی پتہ چلایا جا رہا ہے کہ ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر کا سرپرست اور گاڈ فادر کون ہے۔
گرفتار ہونے والوں میں شفیق الرحمان قریشی ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفیسر، محمد ریاض سابق کیشیئربینک اور ڈمی کنٹریکٹر، فضل حسین آڈیٹر اے جی آفس پشاور، طاہر تنویر سابق مینیجر بینک، دوراج خان ٹھیکیدار، عامر سعید ٹھیکیدار، صوبیدار ٹھیکیدار اور محمد ایوب ٹھیکیدار شامل ہیں۔
ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے جعلی بلنگ، مالیاتی دھوکہ دہی اور منی لانڈرنگ کے ذریعے اربوں روپے کی خردبرد کی اور مواصلات و تعمیرات ڈیپارٹمنٹ کے افسران کے ساتھ ملی بھگت سے بے نامی اکاؤنٹس اور جعلی فرمز کے ذریعے فنڈز منتقل کیے۔
ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفیسر نے اپر کوہستان میں جعلی ترقیاتی منصوبوں کے لیے بجٹ ہیڈ G-10113 کے تحت جعلی ٹریژری چیکوں کی منظوری اور دستخط میں مرکزی کردار ادا کیا۔
اعلی سطح پر کریشن ہوئی
نیب خیبر پختونخوا کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ میں جمع کروائی گئی دستاویزات میں بتایا گیا کہ اس مالی سکینڈل میں اعلیٰ سطح پر کرپشن، عوامی وسائل کے غیر شفاف استعمال اور غیر قانونی مالی لین دین کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس پر انکوائری کو باضابطہ تحقیقات میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
پانچ ارب روپے نکلوا لئے
دستاویزات کے مطابق تحقیقات کے دوران نیب نے 73 بینک اکاؤنٹس کو منجمد کر کے تقریباً پانچ ارب روپے کی رقم برآمد کی ہے، جس میں غیر ملکی کرنسی اور تین کلوگرام سونا بھی برآمد کیا گیا ہے۔
پبلک ٹیکس منی کھا کر 77 لگژری گاڑیاں خریدیں
نیب خیبر پختونخوا کی تحقیقات کے مطابق 77 لگژری گاڑیاں بھی برآمد کی گئی ہیں، جن میں مرسیڈیز، بی ایم ڈبلیو، آؤڈی، پورشا، لیکسز، لینڈ کروزر اور فارچونر شامل ہیں، ان گاڑیوں کی مجموعی مالیت 94 کروڑ روپے سے زائد ہے۔
درجنوں مکان، فلیٹ، پلازے، فارم ہاؤس ضبط
اس کیس میں ملوث افراد کی 109 جائیدادیں بھی ضبط کی گئی ہیں جن کی مالیت 17 ارب روپے سے زائد ہے، ان میں 30 رہائشی مکانات، 25 فلیٹس، 12 کمرشل پلازے، دکانیں، فارم ہاؤسز اور 175 کنال زرعی اراضی شامل ہے، یہ جائیدادیں اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، ایبٹ آباد اور مانسہرہ میں واقع ہیں۔
گرفتار ملزمان کو احتساب عدالت میں پیش کیا جائے گا
ذرائع کے مطابق ایک گرفتار ٹھیکے دار نے 3 ارب 45 کروڑ روپے کی پلی بارگین کی دوبارہ درخواست دی ہے۔ اس سے پہلے وہ کم رقم ادا کر کے پر پلی بارگین کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ جسے مسترد کر دیا گیا تھا۔ نیب کے مطابق ملزم کے اکاؤنٹ سے اتنی ہی رقم کی ٹرانزیکشن بھی سامنے آئی ہے، اور وہ تین اقساط میں نیب کو رقم واپس کرنے پر آمادہ ہے۔
مزید گرفتاریوں کا امکان ظاہر کرتے ہوئے نیب نے کہا ہے کہ اس سکینڈل میں ملوث دیگر افراد کے خلاف بھی تحقیقات جاری ہیں اور جلد کارروائی کی جائے گی۔
علی امین گنڈاپور کے استعفے کا مطالبہ
ادھر پیپلز پارٹی نے کوہستان کرپشن اسکینڈل پر شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کے استعفے کا مطالبہ کر دیا ہے، جس سے معاملہ سیاسی طور پر بھی سنگین ہوتا جا رہا ہے۔