تاریخی عمارتوں کی تزئین وآرائش کا منصوبہ ایک سال  بعد بھی نامکمل

تاریخی عمارتوں کی تزئین وآرائش کا منصوبہ ایک سال  بعد بھی نامکمل

راؤدلشادحسین: مال روڈ پرتاریخی عمارتوں کی تزئین وآرائش کا منصوبہ ایک سال بعد نامکمل، تاریخی عمارتوں کی بحالی کے بجائے خستہ حال حصوں کی مسماری کا آغاز کردیا گیا، انیس سوسولہ کی تاریخی عمارت غلام رسول بلڈنگ کےمرکزی گنبد مسمار کردیئے گئے۔

میٹروپولیٹن کارپوریشن نےلاہور ہائیکورٹ کے حکم پر اگست 2018 میں تاریخی عمارتوں کی بحالی کا منصوبہ شروع کیا، ایک کروڑ بارہ لاکھ روپے خرچ کرنے کے باوجود منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، ایم سی ایل اورضلعی انتظامیہ نے تاریخی عمارتوں کی بحالی کے بجائے انہیں خطرناک قرار دیکرسربمہرکرناشروع کردیا، غلام رسول بلڈنگ کوانتہائی خطرناک قرار دیکرسربمہرکردیا گیا۔

اے سٹی فضل ربی، ایم او پلاننگ رانا نویداختر، زونل آفیسرپلاننگ مزمل اشتیاق اور آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے نمائندوں نے بلڈنگ کا دورہ کیا، اے سی سٹی کا کہنا تھا کہ غلام رسول بلڈنگ کو خالی کرالیا گیا ہے تاکہ مون سون میں کوئی حادثہ پیش نہ آئے، یہ عمارت ثقافتی ورثہ ہے اسکو محفوظ رکھنا ذمہ داری ہے۔میٹروپولیٹن پلاننگ آفیسررانا نوید اختر کہتے ہیں غلام رسول بلڈنگ کا مرکزی گنبد 70 فیصد بارشوں کے باعث تباہ ہوچکا ہے، مرکزی گنبد کو مسمار نہ کیا گیا تو یہ خود ہی گرجائے گا، آرکیالوجی سمیت تمام ڈیپارٹمنٹس کوآن بورڈ  لیا گیا ہے، گنبد کی تعمیرتین سے چار ماہ میں مکمل ہوگی۔

غلام رسول بلڈنگ کا گنبد انتہائی خستہ حال ہونے پرسربمہر کیا گیا جبکہ بیشترکمرشل بلڈنگزکی بحالی کام ادھورا ہے، علاوہ ازیں پبلک موٹر بلڈنگ ، باوا ڈنگا سنگھ بلڈنگ اورایم ایچ سی بلڈنگ ریگل چوک سمیت دیگر عمارتوں کی تزئین وآرائش کا کام تاحال نامکمل ہے۔

شازیہ بشیر

Content Writer