ویب ڈیسک: متحدہ عرب امارات کے مقامی فلکیاتی حکام نے رمضان 1447 ہجری کے باریک ہلال کی ایک نایاب تصویر جاری کر دی ہے، جو دن کی روشنی میں جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے لی گئی۔
حکام کے مطابق یہ تصویر 18 فروری 2026ء کو صبح تقریباً 10 بج کر 30 منٹ (متحدہ عرب امارات کے مقامی وقت کے مطابق) ابوظبی سے حاصل کی گئی۔ جدید امیجنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے ہلال کو اس وقت ریکارڈ کیا گیا جب وہ انسانی آنکھ سے دیکھنا تقریباً ناممکن تھا۔
فلکیاتی مرکز کے مطابق تصویر کشی کے وقت چاند کی عمر تقریباً 16.6 گھنٹے تھی اور وہ سورج سے تقریباً 9.8 ڈگری کے زاویے پر موجود تھا۔ ماہرین نے دن کے وقت ہلال کی کامیاب تصویر کو ایک اہم فلکیاتی پیش رفت قرار دیا ہے، جو غروبِ آفتاب کے بعد ممکنہ رویت سے قبل چاند کی پیدائش کی سائنسی تصدیق میں مدد دیتی ہے۔
فلکیات دانوں کے مطابق عام طور پر پہلا ہلال اس وقت آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہے جب چاند کی عمر 18 سے 24 گھنٹے کے درمیان ہو۔ تاہم اس کا انحصار موسم، فضائی شفافیت اور افق پر چاند کی بلندی پر بھی ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ 15 سے 16 گھنٹے عمر کے چاند کی رویت نایاب ضرور ہے، لیکن مثالی موسمی حالات میں ممکن ہو سکتی ہے، جبکہ 12 گھنٹے سے کم عمر چاند کو جدید آلات کے بغیر دیکھنا عموماً ناممکن سمجھا جاتا ہے۔