ویب ڈیسک :فیڈرل بورڈ آف ریوینیو نے ٹیکس چوری روکنے کےلیے تمام کاروباری ٹرانزیکشنز کی مانیٹرنگ کا فیصلہ کرلیا۔
انکم ٹیکس رولز میں مزید ترامیم سے متعلق مسودے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیاہے، کاروبار کی رئیل ٹائم نگرانی سے ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہوگا۔
ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس چوری روکنے اور معیشت کو دستاویزی شکل دینے کےلیے بڑے ری ٹیلرز، پروفیشنلز اور سروس پرووائیڈرز کی کاروباری ٹرانزیکشنز کی مانیٹرنگ کی جائے گی۔
ڈاکٹرز، وکلاء، اکاؤنٹنٹس اور بڑے شہروں کے ایلیٹ کلب بھی زد میں آئیں گے،اس کے علاوہ ایئر کنڈیشن ریسٹورنٹ، ہوسٹل، گیسٹ ہاؤس، میرج ہالز اور مارکیز بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔
بیوٹی پارلرز، سلمنگ، مساج اور ہیئر ٹرانسپلانٹ سینٹر کی بھی نگرانی ہوگی، بڑے نجی ڈاکٹرز، تعلیمی ادارے بھی پی او ایس سسٹم سے مربوط ہونگے، 500 روپے سے زیادہ فیس لینے والے ڈینٹسٹ بھی پابند ہوںگے جبکہ 50 ہزار سے زیادہ فیس والے فوٹو، ویڈیو گرافرزاور ایونٹ مینجرزکی ٹرانزیکشنز کی بھی نگرانی ہوگی۔
کوریئر، کارگو سروسز، فارن ایکسچینج ڈیلرز کمپنیز بھی پابند ہونگی، ایکسرے، سٹی سکین اور ایم آر آئی کرنے والی میڈیکل لیبارٹریز، ایک ہزار سے زیادہ ماہانہ فیس والے نجی سکول، کالجز،اور یونیورسٹیز کی بھی نگرانی ہوگی۔
اس کے علاوہ انٹر سٹی ٹریول سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں کو بھی اس پر عمل کرنا ہوگا۔