ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سردیوں میں ہونٹ خشک اور پیاس کیوں زیادہ لگتی ہے؟  

سردیوں میں ہونٹ خشک اور پیاس کیوں زیادہ لگتی ہے؟  
کیپشن: file photo
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:موسم سرما کا آغاز ہوتے ہی زیادہ تر لوگ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ چونکہ گرمی نہیں، اس لیے پانی پینے کی ضرورت بھی کم ہو جاتی ہے، تاہم ماہرین صحت اس خیال کو غلط قرار دیتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ سردیوں میں بھی جسم مسلسل پانی استعمال کرتا ہے اور اگر اس کی مناسب مقدار پوری نہ کی جائے تو کئی جسمانی مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ پیاس کا احساس کم ہونے کے باوجود جسم پانی کی کمی کا شکار ہو سکتا ہے، جس کے اثرات فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتے۔

سردیوں میں پیاس لگنے کی بڑی وجہ

سرد موسم میں ہوا عام طور پر خشک ہوتی ہے اور اس میں نمی کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔ جب ہم سانس لیتے ہیں تو اس عمل کے دوران جسم سے زیادہ مقدار میں نمی خارج ہو جاتی ہے، جس کا ہمیں اندازہ بھی نہیں ہوتا اور یہی خاموش عمل جسم سے پانی کی کمی کی ایک بڑی وجہ ہے۔

ٹھنڈے موسم میں پیشاب کی زیادتی

ماہرین کے مطابق سردیوں میں ایک قدرتی عمل کے تحت پیشاب کی مقدار بڑھ جاتی ہے، جسے طبی زبان میں کولڈ ڈائیوریسس کہا جاتا ہے۔ ٹھنڈے موسم میں خون کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں اور گردے فاضل پانی زیادہ مقدار میں خارج کرنے لگتے ہیں۔ اس عمل کے نتیجے میں جسم میں پانی کی کمی پیدا ہو سکتی ہے۔

گرم مشروبات اور پانی کی کمی

سردیوں میں چائے، کافی اور دیگر کیفین والے مشروبات کا استعمال عام ہو جاتا ہے۔ کیفین پیشاب آور اثر رکھتی ہے، جس کے باعث جسم سے پانی زیادہ خارج ہوتا ہے۔ اگر اس کے متبادل کے طور پر سادہ پانی نہ پیا جائے تو ڈی ہائیڈریشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

سردیوں میں ہائیڈریٹ رہنے کے مؤثر طریقے

سرد موسم میں بھی دن بھر پانی پینے کو عادت بنائے رکھنا چاہیے، خواہ آپ کو پیاس محسوس نہ ہو۔ نیم گرم پانی پینا نہ صرف جسم کو ہائیڈریٹ رکھتا ہے بلکہ نظامِ ہاضمہ کے لیے بھی مفید ثابت ہوتا ہے۔

 سوپ، یخنی، دالیں اور سبزیوں کے شوربے سردیوں میں پانی کی کمی پوری کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ یہ جسم کو حرارت بھی فراہم کرتے ہیں اور پانی کی مقدار بھی بڑھاتے ہیں۔

پھل اور سبزیاں بھی سردیوں میں ہائیڈریشن کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ مالٹا، سیب، ناشپاتی، کھیرا اور ٹماٹر جیسی غذائیں جسم کو قدرتی طور پر نمی فراہم کرتی ہیں۔

سردیوں میں ہونٹ خشک کیوں ہو جاتے ہیں؟

سردیوں میں ہونٹوں کا خشک ہونا اور پھٹ جانا ایک عام مسئلہ ہے۔ ہونٹوں کی جلد نہایت نازک ہوتی ہے اور اس میں پسینے یا قدرتی تیل پیدا کرنے والے غدود موجود نہیں ہوتے، جس کی وجہ سے یہ جلدی متاثر ہو جاتے ہیں۔

خشک ہونٹوں سے بچاؤ کے آسان طریقے

خشک ہونٹوں سے بچنے کے لیے سب سے اہم قدم مناسب مقدار میں پانی پینا ہے۔ جب جسم اندر سے ہائیڈریٹ ہوگا تو اس کے اثرات جلد اور ہونٹوں پر بھی نمایاں ہوں گے۔

اچھی کوالٹی کا لپ بام بھی ہونٹوں کو خشک ہونے سے بچاتا ہے، خاص طور پر وہ لپ بام جس میں شیابٹر، ویزلین، ناریل کا تیل یا وٹامن ای شامل ہو۔ سونے سے پہلے لپ بام لگانے سے ہونٹ رات بھر محفوظ رہتے ہیں۔

ہونٹوں کو بار بار زبان سے تر کرنے سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ لعاب دہن جلد خشک ہو جاتا ہے اور ہونٹ پہلے سے زیادہ خراب ہو سکتے ہیں۔ سردی یا دھوپ میں نکلتے وقت اسکارف یا ماسک کا استعمال بھی ہونٹوں کو خشک ہوا سے بچاتا ہے۔