اینٹی منی لانڈرنگ  ترمیمی ایکٹ 2020  ہائیکورٹ میں چیلنج

Anti Money Laundering Amendment Challenge in hHgh court
Anti Money Laundering Amendment Challenge in hHgh court

 ملک اشرف:اینٹی منی لانڈرنگ  ترمیمی ایکٹ 2020 لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا،عدالت  نےایف بی آر اور وفاقی وزارت قانون کو نوٹس جاری کرتے ہوئےجواب طلب کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق اینٹی منی لانڈرنگ  ترمیمی ایکٹ 2020  کولاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا،عدالت  نےایف بی آر اور وفاقی وزارت قانون کو نوٹس جاری کرتے ہوئےجواب طلب کرلیا دوران سماعت جسٹس جواد حسن نے ریمارکس دئیے کہ ایف بی آر کا انٹیلی جنس  اینڈ انویسٹی گیشن ونگ کس طرح  اینٹی  منی لانڈرنگ کے نوٹس جاری کرسکتا ہے؟جسٹس جواد حسن نے یونائیٹڈ انڈسٹریز لمیٹڈ سمیت دیگر کی درخواست پر حکم جاری کیا۔

درخواست گزار کی جانب سے اشتر اوصاف ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ ایف بی آر میں ٹیکس نظام کو چلانےکےلیے تربیت یافتہ انکم ٹیکس افسران موجود ہیں، اینٹی  منی لانڈرنگ ایکٹ میں ترمیم کرکے ایف بی آرمیں نیا ونگ قائم کیا گیا ہے جبکہ  ایف بی آر کے انٹیلی  جنس  اور انویسٹی گیشن ونگ کومنی لانڈرنگ کے نوٹس جاری کرنےکےاختیارات دئیے گئے ہیں۔

درخواست گزار کا کہناتھا انکم ٹیکس افسران کی موجودگی کے باوجود ڈائریکٹر یٹ آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ونگ کا قیام عمل میں لایا گیا، ایف بی آر ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ونگ کی جانب سے نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں،درخواست گزار کو بھی ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ونگ کی جانب سےنوٹس جاری کیا گیا ۔درخواست گزار کی جانب سے استدعا کی گئی کہ عدالت ایف بی آر کے انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ونگ کی جانب سے جاری نوٹسز کالعدم قرار دے اور عدالت ایف بی آر کے ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ونگ کاقیام کالعدم قرار دیا جائے۔

جسٹس جواد حسن نے ریمارکس دیئے کہ اینٹی منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لئے پوری دنیا میں قانون سازی موجود ہے، پاکستان میں ایف بی آر نےکس حیثیت میں ترمیم کرکےایف بی آر کے اینٹلی  جنس  اور انویسٹی گیشن ونگ کو نوٹسز کے اجرا کا اختیار دیا؟ فی الحال کوئی ایسا حکم جاری نہیں کریں گے جس سے پاکستان کا منی لانڈرنگ قانون متاثر ہو ۔