سٹی 42 : وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں ریکوڈیک منصوبے کیلئے اہم تجاویز کی منظوری دے دی گئی۔ ای سی سی نے ریکوڈیک منصوبے کی فنانسنگ تجاویز منظور کرلیں۔
ای سی سی اجلاس میں پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے ریکو ڈیک منصوبے کے حوالے سے حتمی معاہدوں اور مالیاتی ذمہ داریوں پر مبنی سمری پر غور کیا گیا۔ کمیٹی نے ان معاہدوں کی مجوزہ شرائط کو منظور کر لیا ۔ ای سی سی نے ہدایت کی کہ اگر معاہدوں کی حتمی دستاویزات میں کوئی بڑی تبدیلی ہو تو اسے دوبارہ ای سی سی میں پیش کیا جائے۔
ای سی سی نے وزارتِ ریلوے کی جانب سے پیش کی گئی سمری پر بھی غور کیا، ان میں ریکو ڈیک مائننگ کمپنی کے ساتھ ریل ڈویلپمنٹ معاہدہ اور برج فنانسنگ معاہدہ شامل ہے۔ ان معاہدوں کے تحت 39 کروڑ ڈالر کی برج فنانسنگ فراہم کی جائے گی ۔بلوچستان میں کانوں سے برآمدی سامان کی ترسیل کے لیے 1,350 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک بچھایا جا سکے گا، ای سی سی نے اس تجویز کی منظوری دے دی۔
ای سی سی نے ہدایت کی کہ وزارت ریلوے دونوں معاہدوں کی دستاویزات وزارتِ خزانہ کے ساتھ شیئر کرے،وزارتِ ریلوے اور وزارتِ خزانہ کو ہدایت دی گئی کہ آئندہ سال مارچ تک منصوبے کی پیش رفت پر رپورٹ ای سی سی کو پیش کریں۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ای سی سی کی یہ منظوری حکومت کے اس عزم کا اظہار ہے کہ وہ اس تاریخی منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے، ریکو ڈیک منصوبہ نہ صرف دنیا کے سب سے بڑے غیر ترقی یافتہ تانبے اور سونے کے ذخائر کو کھولے گا بلکہ روزگار کے مواقع پیدا کرے گا، انفراسٹرکچر کی ترقی کو فروغ دے گا اور خطے میں دیرپا سماجی و معاشی خوشحالی لائے گا۔