سٹی 42 : اے آئی جی انوسٹی گیشن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ سائبر کرائم سے متعلق کوئی کیس لوکل پولیس درج نہیں کرے گی، سائبر کرائم سے متعلق اب تمام تفتیش نیشنل سائبر کرائم کرے گی۔
اے آئی جی انوسٹی گیشن کا نوٹیفکیشن عدالتوں اور پولیس کو وصول ہو گیا۔ جس کے مطابق سائبر کرائم سے متعلق اب تمام تفتیش نیشنل سائبر کرائم کرے گی، جو درخواست آئے گی اسے ایف آئی اے نیشنل سائبر کرائم کو بھجوا دیا جائے گا ۔ اس کے علاوہ ایف آئی اے آئندہ چالان بھی نیشنل سائبر عدالتوں میں جمع کرائے گی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق آن لائن ہراسانی ، بلیک میلنگ کا کیس نیشنل سائبر کرائم کے حوالے کیا جائے گا۔ خواتین یا مردوں کو سوشل میڈیا پر ہراساں کرنے کی تحقیقات سائبرکرائم ونگ کرے گا۔ جعلی آئی ڈیز اور پروفائلز،جعلی اکاؤنٹ بنانے کی تحقیقات سائبر کرائم ونگ کرےگا۔ اس کے علاوہ سائبر فراڈ اور آن لائن دھوکہ دہی کی تحقیقات بھی سائبر کرائم ونگ کرے گا، ساتھ ہی ای کامرس، آن لائن خرید و فروخت پر فراڈ کی تحقیقات بھی سائبر کرائم ونگ کرے گا ۔
نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ جعلی ویب سائٹس یا ای میلز کے ذریعے پیسے لوٹنے کی تحقیقات سائبر کرائم ونگ کرے گا۔ ڈیٹا چوری اور ہیکنگ،اکاؤنٹ ہیک کرنے کی تحقیقات نیشنل سائبر کرائم ونگ کرے گا ۔ ذاتی معلومات، تصاویر یا ویڈیوز چوری کرنا،غیر اخلاقی ،ممنوعہ مواد پھیلانا شامل ہے۔ اسکے علاوہ فحش، غیر اخلاقی یا مذہبی منافرت پر مبنی مواد سوشل میڈیا پر پھیلانا بھی شامل ہے۔ ریاست یا حساس اداروں کے خلاف پروپیگنڈ ا کی تحقیقات بھی سائبر کرائم ونگ کرے گا۔