علی رامے:پنجاب میں ذرائع آمدن کانیاٹیکس پلان جاری، مختلف سروس سیکٹرزسے80ارب محصولات کاہدف ہوگا، محکمہ خزانہ پنجاب نےپلان حکومت کو پیش کردیا۔
تفصیلات کےمطابق انٹرنیٹ،بینکنگ،انشورنس اورہوٹل سیکٹرزٹیکس نیٹ میں سختی سےلایاجائیگا، فوڈڈیلیوری ایپس اورآن لائن ریسٹورنٹس پربھی ٹیکس لگے گا۔
16ہزاررجسٹرڈریسٹورنٹس کوٹیکس نیٹ میں لانےکافیصلہ کیا گیا، انشورنس سیکٹرسے5ارب روپے وصولی کاہدف مقرر، ٹیلی کام کمپنیوں سے5ارب روپےمحصولات کاتخمینہ لگایا گیا۔
لانگ ڈسٹنس انٹرنیشنل کالز پر بھی ٹیکس وصولی کی تیاری، بینکنگ سروسز سے 5 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جائے گا، اسٹاک مارکیٹ بروکریج کمیشنز پر 2 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا۔
پرائیویٹ کنسٹرکشن کمپنیوں سے بھی ٹیکس کی وصولی ہوگی، شادی ہالز اور کیٹرنگ سروسز بھی ٹیکس نیٹ میں شامل، ہوٹلز اور پراپرٹی بلڈرز سے مجموعی 5 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا۔
فریچائز سروسز سے 8 ارب روپے محصولات کا تخمینہ، پورٹ، ٹرانسپورٹ اور ویئر ہاؤسنگ سروسز سے 6 ارب ہدف حاصل ہوگا۔
ٹیکس نیٹ بڑھانےکےلیےای آئی ایم ایس سسٹم پرعملدرآمدشروع کردیا گیا، ٹیکس چوری کے خلاف کارروائی تیز، نیا آڈٹ پلان تیار، پنجاب میں ٹیکس نیٹ میں توسیع سے صوبائی آمدن میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔