ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

آپریشن غضب اللحق شروع ہونے کے بعد سے کراس بارڈر دہشت گردی میں بہت فرق آیا ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر

 آپریشن غضب اللحق شروع ہونے کے بعد سے کراس بارڈر دہشت گردی میں بہت فرق آیا ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک : ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کا کوئی بھی واقعہ ہوتا ہے اس میں افغانستان استعمال ہوتا ہے، افغانستان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔

ان خیالات کا اظہار ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ٹی وی انٹرویو کے دوران کیا، انہوں نے کہا کہ ہم نے افغانستان پر جنگ مسلط نہیں کی بلکہ یہ جنگ ہم پر مسلط کی گئی ہے، افغان طالبان کو طے کرنا ہوگا اپنا رجیم بچانا ہے یا ٹی ٹی پی کی محبت میں خود کو تباہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ افغان طالبان کے چوائس ہوگی کہ ان کے لیے فتنہ الخوارج اہم ہیں یا پاکستان، اسلام میں خودکشی حرام ہے یہ دین میں کہاں لکھا ہے کہ آپ خودکش حملہ کریں، دوحہ میں انہوں نے کہا تھا افغانستان کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا لیکن کسی بھی وعدے پر عمل نہیں کیا گیا۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ کسی کو بھی پاکستان میں دہشت گردی کی اجازت نہیں دی جاسکتی، دہشت گردی کی قیمت صرف شہید کا بچہ یا خاندان نہیں بلکہ پورا معاشرہ دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن غضب اللحق شروع ہونے کے بعد سے کراس بارڈر دہشت گردی میں بہت فرق آیا ہے، پاکستان تو کہتا ہے کہ بات چیت کریں اور دہشت گردوں کو ہمارے حوالے کریں، بات چیت اور دوسری طرف دہشت گردی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغان طالبان رجیم کا کاروبار ہی دہشت گردی اور منشیات سے وابستہ ہے، دہشت گردوں سے ہم لڑتے ہیں اور لڑتے رہیں گے ہمیں کوئی جلدی نہیں ہے.