سٹی42: بانی کی بہن نے کہا ہے کہ بانی افغانستان کو دشمن نہیں سمجھتے اور کہہ رہے ہیں کہ پاکستان افغانستان سے بلاوجہ دشمنی مول نہ لے۔
بانی کا افغانستان کی حکومت سے لڑائی مول نہ لینے کا بیان آج شام اس وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان کی حکومت اور ریاست کے اداروں کے رہنما پاکستان میں افغانستان کی سرپرستی سے ہو رہی دہشتگردی کے سبب پاکستان کی سلامتی کو لاحق سنگین خطرات پر غور کرنے اور وطن کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے قومی اسمبلی کے فلور پر اہم ترین مشاورت میں بیٹھے ہوئے ہیں۔
آج قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف، چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر، ڈٓئریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز، سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو، وزیر دفاع خواجہ آصف علی، جمعیت علما اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمان خان اور دیگر قومی عمائدین بریفنگز اور ان بریفنگز مین سامنے لائے گئے سنگین مسائل پر اپنی اپنی رائے دے رہے ہیں۔ اس قومی مشاورت مین پی ٹی آئی کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ پی ٹی آئی نے پہلے اجلاس مین شرکت کے لئے اپنے 14 رہنماؤں کے نام دیئے، پھر پراسرار طور پر اس اجلاس میں نہیں آئی۔
آج دوپہر یہ اجلاس پی ٹی آئی کے نمائندوں کے بغیر ہی ہوا جو اب تک جاری ہے۔
اس دوران اڈیالہ جیل میں پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان ان سے ملاقات کے لئے آئیں اور اپنے بھائی سے ملاقات کے بعد کہا کہ بانی نے کہا ہے، افغانستان ہمارا دشمن نہیں ہے، آپ اسے دشمن بنانے کی کوشش نہ کریں، آپ کیوں بلاوجہ مسلمان بھائیوں سے لڑائی مول لے رہے ہیں۔
علیمہ خان نے پاکستان کی موجودہ سنگین صورتحال کے متعلق بانی کا مؤقف یہ بتایا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ گراف نکال کر دیکھیں دہشتگردی 2021 تک کم ترین ہو گئی تھی اور 2022 میں پھر بڑھنا شروع ہوئی۔عمران خان نے کہا ، "افغانستان ہمارا دشمن نہیں ہے، آپ اسے دشمن بنانے کی کوشش نہ کریں، آپ کیوں بلاوجہ مسلمان بھائیوں سے لڑائی مول لے رہے ہیں۔"
علیمہ خان نے دعویٰ کیا کہ بانی کو جیل میں اخبار نہیں مل رہا اور ٹی وی بھی بند ہے، وہ بے خبر تھے، ہم نے انھیں اے پی سی کے بارے میں بتایا تو بانی ،بولے، " اسی لئے میرا اخبار اور ٹی وی بند کیا گیا۔"
علیمہ خان کے بقول بانی نے کہا ۔ "میری اجازت بغیر پارٹی والے اس اے پی سی میں شرکت نہیں کر سکتے۔"بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ پارٹی میری اجازت سے قومی سلامتی کمیٹی میں جائے گی۔
بانی کی وہی پرانی رام کہانی
آج جب کہ پاکستان تاریخ کے نازک ترین دور مین ہے اور بنوں کینٹ پر حملہ کرنے کے دوران مارے جانے والے 16 دہشتگردوں میں سے 5 افغان شہری ثابت ہو چکے ہیں، بلوچستان مین پہلے 11 مارچ کو جعفر ایکسپریس کے چار سو مسافروں کو بی ایل اے کے افغانستان سے بھیجے گئے دہشتگردوں نے یرغمال بنایا، اور دو دن بعد نوشکی مین ایف سی کے قافلے پر خودکش حملہ کر دیا، اس صورتحال میں بھی پی ٹی آئی کے بانی کی بہن بتا رہی ہین کہ بانی نے انہیں وہی پرانی باتیں کہیں جو وہ ہمیشہ کرتے ہیں، بانی کے مطابق وہ دراصل ملک کی سالمیت، آزادی، قانون کی حکمرانی اور ظلم کے خلاف کھڑا ہوں، اگر یہ ان چیزوں کے لئے مجھے جیل میں رکھیں گے تو میں تیار ہوں، اگر یہ سمجھتے ہیں "انکے ان حربوں سے" میں ٹوٹ جاؤں گا تو یہ انکے غلط فہمی ہے، یہ جو مرضی کرلیں میں اپنے اصول سے نہیں ہٹوں گا۔
پاکستان میں کوئی قانون نہیں!
بانی کی بہن نے ایک بار پھر بانی کا یہ الزام دہرایا کہ اس وقت پاکستان میں کوئی قانون کام نہیں کر رہا ہے، کس کی مرضی چل رہی ہے یہ ہمیں پتا ہے، پاکستان بدل چکا ہے، ہم مضبوط کھڑے ہیں۔
بانی اور ان کی فیملی کے مسائل
علیمہ خان نے کہا کہ بچوں سے بھی ان کی فون پر بات نہیں کروائی گئی، نہ ان کے ذاتی معالج سے ان کا طبی معائنہ کروایا گیا، عدالت سے اجازت لے رکھی ہے کہ ڈاکٹر ثمینہ نیازی سے بانی کے دانتوں کا معائنہ کروایا جائے، یہ ہر طریقے سے تنگ کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مشرف نے جب نواز شریف کو جیل میں ڈالا تو کلثوم نواز کو جیل میں نہیں ڈالا تھا، لیکن بانی کے ساتھ اہلیہ کو جیل میں رکھا تاکہ ان پر دباؤ پر سکے۔
اڈیالہ جیل راولپنڈی میں عمران خان سے ملاقات کے بعد ان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا کہ مینوئیل کے مطابق بشری بی بی اور بانی کو آدھا، آدھا گھنٹہ فیملیز اور پھر آپس میں ملاقات کرنی چاہیے، یہ مجموعی طور پر ڈیڑھ گھنٹہ کی ملاقات بنتی ہے لیکن کرائی 30 منٹ جاتی ہے، ہم نے احتجاجا آج ملاقات 45 منٹ تک کی۔