ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سمندر جائنٹ وائرسز سے بھرنے لگے، سائنس دانوں کی وارننگ

سمندر جائنٹ وائرسز سے بھرنے لگے، سائنس دانوں کی وارننگ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: امریکی سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ دنیا کے سمندر ’جائنٹ وائرسز‘ (Giant Viruses یا Gyruses) سے بھر رہے ہیں جو سائز میں عام وائرسز سے کئی گنا بڑے ہیں اور ان کے ماحولیاتی اور ممکنہ انسانی صحت پر اثرات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق عام وائرسز کا سائز اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ وہ انسانی بال کی موٹائی کے صرف 0.5 فیصد کے برابر ہوتے ہیں اور انہیں برہنہ آنکھ سے دیکھنا ممکن نہیں ہوتا لیکن جائنٹ وائرسز ان سے پانچ گنا زیادہ بڑے ہوتے ہیں۔

تحقیقی ٹیم کا کہنا ہے کہ اب تک 230 نئے جائنٹ وائرسز دریافت ہوئے ہیں جو سائنس کے علم میں پہلے نہیں تھے۔ ان وائرسز کا سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ ان کے انسانی صحت پر اثرات تاحال غیر واضح ہیں۔

سمندری حیات اور ماحولیاتی نظام خطرے میں؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ جائنٹ وائرسز سمندروں میں پائی جانے والی چھوٹی حیاتیات جیسے کہ الگئی (Algae) اور ایموبا (Amoeba) پر حملہ کرتے ہیں جو سمندری فوڈ چین کا بنیادی حصہ ہیں۔ ان وائرسز کی بڑھتی ہوئی تعداد سے سمندری ماحولیاتی نظام میں گہرے بگاڑ کا اندیشہ ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق یہ وائرسز زمین پر بھی زندہ رہ سکتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ ان کے اثرات صرف سمندروں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یہ زمینی ماحولیاتی توازن کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔

ماہرین نے واضح کیا ہے کہ جائنٹ وائرسز کے بارے میں جاننے کے لیے ابھی بہت تحقیق باقی ہے لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ان وائرسز کا عالمی ماحولیاتی نظام پر گہرا اثر ہو سکتا ہے خاص طور پر سمندری زندگی، آکسیجن کی پیداوار اور ماحولیاتی توازن پر۔

تحقیق کاروں نے عالمی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے پر فوری سائنسی توجہ، تحقیقاتی فنڈنگ اور نگرانی کے نظام کو بہتر بنایا جائے تاکہ بروقت اقدامات کیے جا سکیں۔