ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بلوچستان میں زرعی پانی کی شدید قلت کے خلاف آبادکاروں کا سکھر بیراج پر دھرنا

بلوچستان میں زرعی پانی کی شدید قلت کے خلاف آبادکاروں کا سکھر بیراج پر دھرنا
کیپشن: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 سٹی 42: بلوچستان میں زرعی پانی کی شدید قلت کے خلاف آبادگاروں نے سکھر بیراج پر دھرنا دے دیا 
میر حسن خان شہیلانی کی قیادت میں سندھ،بلوچستان ہاری اتحاد کا احتجاج  ہوا۔ سکھر بیراج پر دھرنے کے باعث ٹریفک کی آمد و رفت معطل ہوگئی ۔ مظاہرین کی سندھ حکومت اور محکمہ آبپاشی کے خلاف شدید نعرے بازی کی ۔
رہنماؤں میں میر حسن خان شہیلانی، میر خالد جمالي، میر عمران جمالي اور دیگر شریک ہیں ۔

رہنماؤں  نے کہا  سکھر بیراج پر پانی موجود مگر کینالز کو فراہم نہیں کیا جا رہا۔کيرتهر کینال اور دادو کینال میں پانی نہ چھوڑنے کا الزام بھی لگایا ۔ پانی کی قلت سے لاکھوں ایکڑ زرعی زمین بنجر ہونے کا انکشاف کیا ۔
پینے کے پانی کی شدید قلت، مویشی ہلاک ہونے لگے ۔آبادگاروں  نے  نقل مکانی کرنی شروع کردی ۔ علاقے قحط جیسی صورتحال کا شکار ہوگئے ۔ 
 مظاہرین نے الزام لگایا کہ سندھ حکومت بلوچستان کا پانی روک رہی ہے،بلوچستان کے وفد میں صوبائی وزراء میر صادق عمرانی اور سلیم کھوس بھی شامل ہیں ۔ صادق عمرانی نے کہا ہم نے سکھر بیراج انتظامیہ سے بریفنگ لی ہے، سلیم کھوسو نے بتایا کہ  ہمیں بتایا گیا ہے کہ چند دنوں میں مسئلہ حل ہو جائے گا ۔ پانی کے مسئلے کو لے کر کراچی جا رہے ہیں جہاں وزیراعلی سندھ سے ملاقات ہوگی ۔میر صادق عمرانی نے کہا پانی کی قلت کے باعث بلوچستان کے کاشت کار شدید پریشانی کا شکار ہیں  زرعی کے پانی کا مسئلہ انتہائی اہم ہے قلت ختم کرنے کے لیے فوری کوشش کی جائے ۔