ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پنجاب بار کونسل کے اہم اجلاس میں وکلاء اور قانونی شعبے کی بہتری کیلئے متعدد سفارشات منظور

پنجاب بار کونسل کے اہم اجلاس میں وکلاء اور قانونی شعبے کی بہتری کیلئے متعدد سفارشات منظور
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی پنجاب بار کونسل  فخر حیات اعوان  کی سربراہی میں اہم اجلاس  ہوا، جس میں وکلاء کی فلاح، قانونی تعلیم کے معیار، بار کونسلز کے کردار اور عدالتی نظام سے متعلق متعدد اہم سفارشات اور مطالبات متفقہ طور پر منظور کیے گئے۔

اجلاس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ملک بھر میں وکلاء اکیڈمیوں کے قیام کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور اس مقصد کے لیے خصوصی فنڈز فراہم کیے جائیں تاکہ نوجوان وکلاء کی پیشہ ورانہ تربیت کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔اجلاس میں لاء کالجوں میں وکلاء کے بچوں کے لیے مختص پانچ فیصد کوٹہ بڑھا کر دس فیصد کرنے اور اس پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔شرکاء نے حکومتِ پاکستان سے لائرز پروٹیکشن ایکٹ 2023 کی تمام شقوں پر مکمل اور مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔ اس کے ساتھ وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا کہ نوجوان وکلاء کے لیے ماہانہ سکالرشپ جبکہ سینئر وکلاء کے لیے اولڈ ایج بینیفٹس اور فلاحی اسکیمیں متعارف کرائی جائیں۔اجلاس میں پرائیویٹ سیکٹر میں قائم لاء کالجوں کے معیار کو بہتر بنانے، صوبائی بار کونسلز کو مشاورتی اور پالیسی سازی کے عمل میں شامل کرنے اور "کوالٹی، نوٹ کوانٹیٹی" کے اصول کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔ اس موقع پر ڈگری ویریفکیشن، انرولمنٹ، این او سی اور لائسنسنگ کے طریقہ کار کو مزید شفاف، مؤثر اور لازمی بنانے کی سفارش بھی منظور کی گئی۔اجلاس میں بار ایسوسی ایشنز کی جانب سے بلاجواز ہڑتالوں کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے اس رجحان کی روک تھام کے لیے بار کونسلز کی جانب سے عملی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

شرکاء نے موسم گرما کی شدت کے پیش نظر پنجاب بار کونسل کی جانب سے وکلاء کے ڈریس کوڈ سے متعلق کی گئی قانون سازی کو سراہا اور ضرورت کے مطابق مزید اصلاحات اور قانون سازی پر بھی اتفاق کیا۔

اجلاس میں باقاعدہ پریکٹس نہ کرنے والے وکلاء سے متعلق مؤثر قانون سازی کی ضرورت پر زور دیا گیا تاکہ پیشہ وکالت کے معیار اور وقار کو برقرار رکھا جا سکے۔

اجلاس کے دوران آزاد جموں و کشمیر، بلوچستان، ایران اور فلسطین کے شہداء کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ بلوچستان اور آزاد جموں و کشمیر میں امن و امان کی صورتحال بہتر بناتے ہوئے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ شرکاء نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق پرامن طریقے سے حل ہونا چاہیے۔اجلاس کے اختتام پر بلوچستان، آزاد جموں و کشمیر اور خیبر پختونخوا کے شہداء کے لیے دعائے مغفرت کی گئی جبکہ اجلاس میں شرکت کرنے والے معزز مہمانوں میں یادگاری شیلڈز بھی تقسیم کی گئیں۔