مریم مظہر: شہر کی اوپن مارکیٹ میں سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں سرکاری نرخوں سے کہیں زیادہ وصول کی جا رہی ہیں، جبکہ شہریوں نے انتظامیہ سے سرکاری ریٹ لسٹ پر سختی سے عمل درآمد کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
مارکیٹ سروے کے مطابق متعدد اشیائے خورونوش سرکاری نرخوں کے مقابلے میں 80 سے 160 روپے، جبکہ بعض اشیا اس سے بھی زیادہ مہنگے داموں فروخت ہو رہی ہیں۔ پیاز کی سرکاری قیمت 107 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم اوپن مارکیٹ میں یہ 180 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔ اسی طرح ٹماٹر، جس کی سرکاری قیمت 240 روپے ہے، 620 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے۔
لہسن کی سرکاری قیمت 140 روپے کے مقابلے میں 320 روپے، ادرک 330 روپے کے بجائے 480 روپے، جبکہ مٹر 300 روپے کے مقابلے میں 600 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔ شلجم، پالک، بھنڈی، بینگن، ٹینڈے، میتھی اور لیموں سمیت دیگر سبزیوں کی قیمتیں بھی سرکاری نرخوں سے زائد ریکارڈ کی گئیں۔ البتہ شملہ مرچ سرکاری نرخ 310 روپے کے مقابلے میں 260 روپے فی کلو فروخت ہوتی دیکھی گئی۔
پھلوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں فرق دیکھنے میں آیا۔ امرود کی سرکاری قیمت 175 روپے کے مقابلے میں 220 روپے، انار 260 روپے کے بجائے 420 روپے، سفید خوبانی 320 روپے کے مقابلے میں 380 روپے، جبکہ کیلے 215 روپے فی درجن کے بجائے 250 روپے فی درجن فروخت کیے جا رہے ہیں۔
آم کی مختلف اقسام بھی سرکاری نرخوں سے زائد قیمت پر فروخت ہو رہی ہیں۔ انور رٹول 315 روپے کے مقابلے میں 400 سے 410 روپے، چونسہ 270 روپے کے مقابلے میں 300 سے 350 روپے، فجری 130 روپے کے بجائے 250 سے 280 روپے، جبکہ دیسی آم 110 روپے کے مقابلے میں 150 سے 180 روپے فی کلو دستیاب ہے۔ تاہم دوسہری آم بعض مقامات پر سرکاری نرخ سے کم یعنی 250 سے 280 روپے فی کلو فروخت ہوتا دیکھا گیا۔ کچے آم، جن کی سرکاری قیمت 40 روپے فی کلو مقرر ہے، اوپن مارکیٹ میں دستیاب نہیں تھے۔
دوسری جانب لیچی کی سرکاری قیمت 675 روپے فی کلو کے مقابلے میں 400 سے 420 روپے جبکہ آڑو 200 روپے کے مقابلے میں 240 سے 320 روپے فی کلو فروخت کیے جا رہے ہیں۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ناجائز منافع خوری کی روک تھام کے لیے سرکاری ریٹ لسٹ پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔