ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

تین لو پریشر سسٹم یکجا؟ سنگین خطرہ سر پر آ گیا

Low pressure System, Monsoon, weather update, rain forecast, cloud burst, collision of the low pressure systems
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

روزینہ علی :  مون سون کے ساتھ تین مزید  لو پریشر سسٹم باہم ٹکرانے کو تیار ہیں۔ ویدر سسٹمز کا ٹکراؤ ہوا تو اس سے کلاؤڈ برسٹ کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ کلاؤڈ برسٹ جس علاقے میں ہو گا وہاں  غیر معمولی صورتحال پیدا ہو جائے گی۔ جولائی کا آخری ہفتہ پاکستان میں خطرناک بارشیں لا سکتا ہے۔

 این ڈی ایم اے کے ٹیکنیکل ایکسپرٹ ڈاکٹر طیب  نے انکشاف کیا ہے کہ  جنوبی پنجاب اور شمالی سندھ میں  "موسمیاتی پیٹرن"  بن رہے ہیں۔

زیادہ بارشیں کہاں ہونگی؟ مون سون کے چوتھے اسپیل کے ساتھ تین سلسلوں کی شدت کیا ہوگی؟  اس حوالے سے اپ ڈیت یہ ہے کہ تین لو پریشر سسٹم پبن رہے ہیں؛  ایک بڑا  لو پریشر  انڈیا  کے صوبہ مدھیہ پردیش میں ہے اس کا اثر پاکستان تک آئے۔

،جنوبی پنجاب اور شمالی سندھ میں موسمیاتی پیٹرن بن رہے ہیں، دوسرا  لو پریشر سسٹم بحیرہ عرب اور گجرات سے گزر کر  پاکستان میں داخل ہو رہا ہے۔

ایک تیسرا لو پریشر سسٹم  ویسٹرلی ونڈز کا ہے جو   شمال سے پاکستان کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اگر یہ تین لو پریشر سسٹم پاکستان کے مختلف علاقوں مین ای کدوسرے سے دور رہے تو الگ صورتحال ہو گی، اس صورت میں مون سون کو انڈیا سے آنے والا سسٹم  کافی بارش تو برسائے گا لیکن یہ بارش غیر معمولی نہیں ہو گی، دوسرے لو پریشر سسٹم بھی کسی حد تک عممولی نوعیت کی بارش محدود علاقوں میں برسا سکیں گے۔

لو پریشر سسٹم ایک جگہ اکٹھے ہو گئے تو کلاؤڈ برسٹ ہو گا

تین مختلف اطراف سے آگے برھ رہے تین لو پریشر سسٹم  اگر پاکستان کی فضا میں کسی جگہ اکٹھے ہو گئے، یا اوور لیپ ہوئے تو جن علاقوں مین اوور لیپنگ یا تصادم/ ادغام ہو گا وہاں غیر معمولی بارش ہو سکتی ہے اور کلاؤڈ برسٹ بھی ہو سکتا ہے جس کے نتیجہ میں کم وقت مین بہت زیادہ پانی برس کر کسی ایک جگہ پر سیلاب کی کیفیت پیدا کر سکتا ہے۔ یہ کلاؤڈ برسٹ خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں، کشیر کے علاقوں مین ہوا تو اس سے مقامی نالوں اور سندھ، جہلم دریاؤں میں سیلاب کی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔  پنجاب کے کسی بھی آباد علاقہ میں تین لو پریشرز مین سے دو یا تینوں اکٹھے ہو گئے تو اس علاقہ میں غیر معمولی بارش سے خطرناک صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

موسم کے ماہرین کہہ رہے ہیں کہ لو پریشر کے تین سسٹمز کی ایک ہی وقت میں موجودگی سے جولائی کے آخری ہفتے  ملک بھر میں الگ الگ بارشوں کا امکان ہے۔ یہ بارشین الگ الگ ہی رہیں تو زیادہ خطرہ نہین ہو گا، خطرہ لو پریشر سسٹمز کے اکٹھے ہو جانے سے ہو گا۔ 

آج رات سے ملک کے وسطی علاقوں میں موجود مون سون کا سسٹم بارش برسانا شروع کر سکتا ہے۔ 

کل انیس  جولائی کو  بلوچستان ،سندھ اور پنجاب میں ہلکی سے درمیانے درجے کی بارش ہو سکتی ہے۔

جنوبی پنجاب میں بہاولپور، بہاولنگر، ملتان، لیہ، ڈیرہ غازی خان ، راجن پور میں ہلکی سے درمیانے درجے کی بارش ہو سکتی ہے۔

سندھ میں ٹھٹھہ، سجاول، بدین ، ٹنڈو الہیار ،ٹنڈو محمد خان، گھوٹکی ، سانگھڑ میرپور ماتھیلو، دادو قمبر، شہداد کوٹ میں ہلکی سے درمیانے درجے کی بارش ہو سکتی ہے۔

بلوچستان کی مشرقی پٹی پر بارکھان، کوہلو ، اوستا محمد ، ڈیرا مراد جمالی، آواران اور لسبیلہ ،میں ہلکی سے درمیانے درجے کی بارش ہونے کا امکان ہے، ان علاقوں میں تیز  بارش بھی ہو سکتی ہے، 

21 جولائی سے  بارش برسانے کی اہلیت رکھنے والے ویدر  پیٹرنز کی شدت بڑھے گی۔  شمال مشرقی پنجاب اور پوٹھوہار میں زیادہ  بارش ہو سکتی ہے۔

لاہور، خانیوال، فیصل آباد، سیالکوٹ ، شکر گڑھ ،نارووال اور دیگر متعدد اضلاع میں بارش رہے گی لیکن قدرے کم۔

چکوال، سرگودھا، گجرات، گوجرانوالہ، اسلام آباد راولپنڈی میں نسبتاً زیادہ  بارش ہونے کا خطرہ ہے۔ 

آزاد  کشمیر میں مظفرآباد، باغ. حویلی، پونچھ، راولا کوٹ میں بارشیںقدرے زیادہ  ہوں گی۔

  خیبرپختونخوا کے بالائی علاقے  اور  پشاور، مردان، اور صوابی میں بارشیں متوقع ہیں،یہ سلسلہ 26 سے 27 جولائی تک رہے گا۔ ابھی تک پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں معمول سے زیادہ بارشیں ریکارڈ کی گئی ہیں،اب سندھ میں بھی مون سون بارش کی مقدار بڑھنے جا رہی ہے۔