ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

غزہ کی تعمیر نو کے لیے 53.2 ارب ڈالر سے زائد کی ضرورت ہے: ورلڈ بینک

Interim Rapid Damage and Needs Assessment ،Gaza war, Hamas' October 7 attack on Israel
کیپشن: حماس کے سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملے سے شروع ہونے والی جنگ نے غزہ کے بیشتر رہائشی علاقوں کو ناقابلِ استعمال بنا دیا ہے۔ گنجان آباد شہر مین صرف ملبہ ہٹانا ہی ایک مشکل کام ہے۔ اس عمل مین کتنا عرصہ لگے گا، اس دوران غزہ کے بے گھر شہری کہاں، کیسے رہیں گے ان پیچیدہ سوالات سے قطع نظر بحالی کے لئے درکار سرمایہ مہیا کرنا ایک اہم چیلنج ہے۔ غزہ کے ایک بمباری سے تباہ علاقہ کی فائل فوٹو گوگل کے ذریعہ حاصل کی گئی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: ورلڈ بینک یورپی یونین اور یو این او نے  اپنے مشترکہ جائزہ میں بتایا ہے کہ غزہ کی تعمیرِ نو کے لئے تقریباً 53.2  بلین ڈالر کی ضرورت پڑے گی۔
ایک بین الاقوامی نیوز ایجنسی کی پرورٹ کے مطابق  اقوام متحدہ، یورپی یونین اور ورلڈ بینک کی طرف سے جاری کردہ ایک  مشترکہ جائزہ  رپورٹ کے مطابق، 15 ماہ  تک جاری رہنے والی  اسرائیل-حماس جنگ کے بعد غزہ اور مغربی کنارے کی تعمیر نو کے لیے 50 بلین ڈالر سے زیادہ کی ضرورت ہوگی۔

نقصانات اور غروریات کی تیز بحالی کے عبوری تخمینہ (عبوری ریپڈ ڈیمیج اینڈ نیڈز اسسمنٹ ) میں ورلد بینک، یورپی یونین اور یو این او نے کہا کہ اگلے دس سالوں میں بحالی اور تعمیر نو کے لیے 53.2 ارب ڈالر  کی ضرورت ہے، پہلے تین  سال میں20 ارب ڈالر  کی ضرورت ہے۔

Caption  غزہ میں جنگ بندی کے بعد یہ تنازعہ ابھی حل ہونا باقی ہے کہ غزہ کا کنترول کس کے پاس ہو گا۔ حماس 2006 سے غزہ کو کنٹرول کر رہی تھی اور فلسطینی اتھارٹی یہاں سے  بے دخل ہو چکی تھی۔ پندرہ ماہ کی جنگ کے دوران حماس کا غزہ میں  کنٹرول ختم ہو گیا تھا۔ تعمیر نو اور بحالی کے دوران حماس کا غزہ میں کیا کردار ہو گا یہ بنیادی سوال ہے جس سے بیشتر امن کے خواہاں افراد اور اداروں کی طرح ورلڈ بینک، یورپی یونین اور یو این او بھی نظرین چرا رہے ہیں۔ حماس کے مسلح جنگجوؤں کی ایک فائل فوٹو