وسیم عظمت: آئی سی سی چیمپئینز ٹرافی 2025 میں گرین شرٹس سخت کوشش کریں گے کہ ٹرافی گھر پر ہی رہے اور وہ 2017 کی طرح یہ ٹرافی بھی سب کو پچھاڑ کر جیت لیں، پاکستانی فینز کی دعائییں اور خواہش بھی یہی ہے لیکن ہسٹری کچھ اور ہے، پاکستان کی فتح کی راہ میں ہسٹری حائل ہو گی یا نہیں یہ دیکھنے کے لئے ہمیں دو ہفتے تک تمام میچ دیکھنے پڑیں گے اور بہت سی دعائیں کرنا پڑیں گی۔
آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی فاتحین کی فہرست (1998-2025) اس ہسٹاریکل حقیقت کی نشان دہی کرتی ہے کہ جو ملک چیمپئینز ٹرافی کے ایونٹ کی میزبانی کرتا ہے وہ ٹرافی نہیں جیتتا۔
آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کرکٹ کی دنیا کا ایک باوقار ترین سمجھا جانے والا ایک روزہ بین الاقوامی ناک آؤٹ ٹورنامنٹ ہے جسے آئی سی سی نے 1998 میں متعارف کرایا تھا۔
اس ٹورنامنٹ کو بعد میں آئی سی سی ناک آؤٹ ٹورنامنٹ کے نام سے جانا گیا۔ سنہ 2002 سے اس کا نام بدل کر آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی رکھ دیا گیا۔ چیمپئینز ٹرافی خاص الخاص اور باوقار ترین ایونٹ کیوں ہے اسے سمجھنے کے لئے اس کے فارمیٹ کو سمجھنا ضروری ہے۔
انٹرنیشنل کرکٹ تو اب درجنوں ملکوں میں کھیلی جا رہی ہے لیکن چیمپئینز ٹرافی میں مقابلے میں صرف ٹاپ 8 ٹیموں کو ہی شامل کیا جاتا ہے، اور یہ اصول 2009 میں متعارف کرایا گیا تھا۔ آٹھ ٹیمیں ناک آؤٹ بنیاد پر کھیلتی ہیں اور صرف سوپر فِٹ ٹیمیں ہی آگے آتی ہیں۔
اب ہم 1998-2025 تک آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے فاتحین کی فہرست پر سرسری نظر ڈالیں تو یہ سنسنی خیز انکشاف ہوتا ہے کہ ٹرافی جس ملک میں ہوئی اس ملک کو کبھی نہیں ملی۔
بنگلہ دیش نے چیمپئینز ٹرافی کے میچوں کی میزبانی کی تو ٹرافی ساؤتھ افریقہ نے جیتی۔
کینیا نے چیمپئینز ٹرافی کی میزبانی کی تو ٹرافی نیوی لینڈ کی ٹیم جیت کر لے گئی۔
چیمپئینز ٹرافی کی میزبانی انگلینڈ کے حصے میں آئی تو ٹرافی ویسٹ انڈیز لے اڑا۔
انڈیا کو چیمپئینز ٹرافی کی میزبانی کا اعزاز ملا تو ٹرافی آسٹریلیا کے کیوی ہتھیا کر لے گئے۔
ساؤتھ افریقہ نے بڑے چاؤ سے چیمپئینز ٹرافی کی میزبانی کی تو ٹرافی پھر آسٹریلیا کے کیویز کے ہی ہاتھ لگی۔
انگلینڈ اور ویلز نے مل کر چیمپئینز ٹرافی کی میزبانی کی تو ٹرافی انڈیا پر عاشق ہو کر انڈینز کے ساتھ چلی گئی۔
2017 میں ایک بار پھر انگلینڈ اور ویلز نے ٹرافی کی میزبانی کی تو ٹرافی پاکستان کے گرین شرٹش چھین لائے۔
تاریخ میں ایک بار ایسا ہوا کہ چیمپئینز ٹرافی کی میزبانی دو ملکوں نے مل کر کی، دونوں ہی فائنل میں پہنچ گئے؛ اب ٹرافی کو کسی ایک میزبان ملک کے ہاں جانا تھا- پھر کیا ہوا؟ یہ ہوا کہ فائنل ہی نہیں ہوا، دنیا کی سب سے پریسٹیجئیس ٹرافی کا فائنل میچ ہی نہیں ہوا۔ ٹرافی نے اپنی مرضی دکھا دی کہ وہ میزبان کے ہاں نہین رہتی، نہین رہے گی۔ آئی سی سی نے جو جبردستی کی اور ٹرافی وک دونوں میزبان ملکوں میں آدھا آدھا بانٹ دیا لیکن فینز اب تک اس فائنل جیتے بغیر ملنے والی ترافی کو ٹرافی نہین مانتے۔
اب پاکستان چیمپئینز ٹرافی 2025 کی میزبانی کر رہا ہے۔ اس ٹرافی کے میچوں کے لئے پاکستان کرکت بورڈ نے تین سٹیڈیم تعمیرِ نو کر کے نئے کر دیئے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ وکٹیں اور ہوم آڈئینس سب گرین شرٹس کو سپورٹ کریں گے، ایونت مین بہترین پرفارمنس دینے کے لئے کھلاڑیوں کو کم و بیش ایک سال سے تیار کیا جا رہا ہے، دستیاب لاٹ مین سے چن کر بہترین کو 15 کی ٹیم مین لایا گیا ہے، ان میں سے جو سپر فٹ ہوں گے وہ میچوں مین کھیلنے کے لئے بھیجے جائیں گے، قوم دعائیں کرے گی، اس سب کے باوجود چیلنج یہ ہے کہ ہسٹری کچھ اور ہے؛ چیمپئینز ٹرافی میزبانوں کے ہاتھ اب تک نہیں آئی۔ کیا پاکستانی کھلاڑیوں کی محنت اور فینز کی دعائیں چیمپئینز ٹرافی کی ہسٹری کو بدل سکیں گے۔ یہ دیکھنے کے لئے مزید چوبیس گھنٹے بعد پاکستان کے پہلے میچ سے دعائیں کرنا پڑیں گی اور 9 مارچ کو فائنل کے نتیجہ تک دعائیں ہی جاری رکھنا ہوں گی۔
چیمپئینز ٹرافی کی ہسٹری تو جو ہے سو ہے لیکن باعزم لوگوں کی بھی ایک ہسٹری ہے، وہ تاریخ کو بدل ڈالتے ہیں۔

چیمپئینز ٹرافی کے کچھ فیکٹس
چیمپئینز ٹرافی پہلی بار بنگلہ دیش میں 1998 میں 'ولز انٹرنیشنل کپ' کے طور پر منعقد ہوئی تھی۔
آسٹریلیا واحد ٹیم ہے جس نے دو بار آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی جیتی۔ انہوں نے 2006 اور 2009 کے ایڈیشن میں یہ پریسٹیجئیس ٹورنامنٹ جیتا تھا۔
دو چیمپئینز ٹرافی کے مالک آصٹریلیا نے خود کبھی چیمپئینز ٹرافی کی میزبانی نہیں کی۔ نیوزی لینڈ اور ویسٹ انڈیز نے بھی ٹرافی تو جیتی لیکن کبھی اس کی میزبانی نہیں کی۔
بارش نے فائنل کو 2002 میں ہونے سے روک دیا، جس کی وجہ سے بھارت اور سری لنکا کو رسمی مشترکہ فاتح ڈیکلئیر کیا گیا لیکن فینز نے دونوں کو ہی فاتح نہیں سمجھا کیونکہ فاتح وہی ہوتا ہے جو آٹھ میں خود کو بہترین منوا لے۔

یہ مقابلہ 2017 کے ایونٹ کے بعد بند کر دیا گیا تھا۔ 2021 میں، آئی سی سی نے اعلان کیا کہ چیمپئنز ٹرافی 2025 میں پاکستان میں اور 2029 میں بھارت میں کھیلی جائے گی۔