سٹی42: شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن نے اسرائیل کو امریکی حمایت یافتہ ’دہشت گردی کا پروجیکٹ‘ قرار دے دیا۔
شمالی کوریا کے ڈکٹیٹر کِم جونگ اُن نے ایک بیان میں عالمی تنازعات سے متعلق خطاب کرتے ہوئے، اسرائیل کو ایک جائز ملک کے بجائے امریکی طاقت کا آلہ کار قرار دیا ہے۔
شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے اسرائیل کو امریکہ کا حمایت یافتہ ایک "ٹیررزم پروجیکٹ" قرار دیتے ہوئے، اسرائیل کو ریاست کی حیثیت سے تسلیم کرنے سے شمالی کوریا کے دیرینہ انکار کا اعادہ کیا۔
پیانگ یانگ میں شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے آج رپورٹ کیا کہ کم جونگ اُن نے یہ ریمارکس عالمی تنازعات سے نمٹنے کے متلعق اپنے ایک بیان میں دیئے، جس میں انہوں نے اسرائیل کو ایک جائز ملک کے بجائے امریکی طاقت کا آلہ کار قرار دیا۔ انہوں نے واشنگٹن پر الزام لگایا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں اپنے مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے اسرائیل کو استعمال کر رہا ہے۔
شمالی کوریا نے تاریخی طور پر خود کو فلسطینی ریاست کے قیام کی کاز کے ساتھ جوڑ رکھا ہے اور وہ اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔ یہ پوزیشن اس نے 1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے برقرار رکھی ہوئی ہے۔ پیانگ یانگ نے بارہا اسرائیلی فوجی اقدامات کی مذمت کی ہے اور اسرائیل کے مخالف گروہوں کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔
شمالی کوریا سفارتی طور پر کافی حد تک الگ تھلگ ہے اور اکثر امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر کڑی تنقید کرتا ہے، اور اکثر عالمی تنازعات کو اپنے کلاسیکل مارکسسٹ تجزیہ کے طریقہ سے "سامراج مخالف" پرسپیکٹِو میں دیکھتا اور بیان کرتا ہے۔
فلسطین پر شمالی کوریا کی پوزیشن کا تاریخی تناظر
کوریا 1945 میں دوسری جنگ عظیم کے بعد تقسیم ہوا تھا۔ اس وقت سوویت یونین کی فوج نے کوریا کے کچھ علاقہ پر کنٹرول حاصل کر رکھا تھا (شمالی) اور کچھ علاقہ امریکی فوج کے قبضہ میں تھا (جنوبی)۔ اگست 1945 میں جاپان کے ہتھیار ڈالنے کے بعد، کوریائی جزیرہ نما، جو پہلے جاپانی حکمرانی کے تحت تھا، کو 38ویں متوازی طور پر سوویت اور امریکی قبضے کے علاقوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ دونوں بڑی طاقتوں کے قبضے والے علاقوں میں تقسیم ہو کر کوریا کے دو ملک بنے جن کو شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کہا جاتا ہے۔
شمالی کوریا میں مقامی مارکسسٹ انقلابی رہنما کم ال سنگ نے کوریا واپس آ کر 1948 میں اقتدار سنبھالا۔ انہوں نے 1948 میں، ڈیموکریٹک پیپلز ریپبلک آف کوریا (DPRK) کا اعلان کیا، جس میں کم ال سنگ اس کے پہلے وزیر اعظم اور رہنما تھے، تب سے اب تک شمالی کوریا میں کمیونسٹ طرز معیشت مروج ہے اور حکومت ایک ہی پارٹی یعنی کمیونسٹ پارٹی آف کوریا کی ہے۔
اس عرصہ کے دوران سوویت یونین ٹوٹ کر کئی ریاستوں میں تقسیم ہو گیا، سوویت بلاک منتشر ہو کر زیادہ تر یورپ میں ضم ہو گیا لیکن شمالی کوریا میں کمیونسٹ نظام برقرار ہے اور فلسطین کے متعلق شمالی کوریا کی پوزیشن وہی ہے جو ستتر سال پہلے سے تمام کمیونسٹ بلاک کی رہی۔
اسرائیل اور امریکہ اس سے قبل پیانگ یانگ کے ایسے ہی ریمارکس کو پروپیگنڈہ قرار دے کر مسترد کر چکے ہیں اور شمالی کوریا کے اسرائیل کے ساتھ کوئی سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔