ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا کہ میں بھارت کی طرف سے کھیل رہا ہوں، ترنگا اوڑھنے والے کھلاڑی کا دعویٰ

مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا کہ میں بھارت کی طرف سے کھیل رہا ہوں، ترنگا اوڑھنے والے کھلاڑی کا دعویٰ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: بھارتی بن کر پاکستانی کھلاڑیوں کو کھیل کے میدان میں طمانچے مارنے، بھارتی یونیفارم پہننے اور بھارتی جھنڈا اٹھانے والے پاکستانی نے اپنی مذموم حرکت کی انوکھی وجہ بتا دی۔

پاکستان کے شہری اور کبڈی کےمشہور کھلاڑی عبداللہ راجپوت نے دعویٰ کیا ہے کہ مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا کہ میں پاکستان کے خلاف بھارت کی طرف سے کھیل رہا ہوں۔  عبداللہ نے یہ  عجیب منطق پیش کی کہ مجھے پتہ نہیں تھا کہ ٹیموں کا نام انڈیا اور پاکستان رکھا جائےگا۔ 
 بحرین میں کبڈی کے ٹورنامنٹ میں کمنٹیٹر نے واضح اعلانات کئے کہ اب "پاکستان" اور "بھارت" کا میچ ہو گا۔ پھر دونوں ٹیموں کے کھلاڑی میدان میں آئے، میچ دیکھنے کے لئے ٹکٹ خرید کر آنے والوں میں پاکستان اور بھارت  دونوں ملکوں کے شہری تھے، دونوں ملکوں کے شہریوں نے پاکستان اور بھارت کے حق میں نعرے لگائے، ماحول پاکستان اور بھارت کے روایتی حریفانہ میچ جیسا تھا۔ لیکن بھارت کی ٹیم میں بھارتی یونیفارم پہنے، بھارتی جھنڈا کندھوں پر ڈالے کھلاڑیوں میں سے ایک بھارتی نہیں بلکہ پاکستانی تھا۔

پاکستانی کھلاڑی کی بھارت کی ٹیم کا حصہ بن کر پاکستانی ٹیم کے خلاف کھیلنے اور کھیل کے دوران پاکستانی کھلاڑیوں کو "طمانچے" مارنے کی ویڈیوز بنیں اور سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔ پاکستانیوں نے اس کھلاڑی کی مذموم حرکت پر بہت تنقید کی۔ اس کے بعد پاکستان کبڈی فیڈریشن کو ہوش آیا اور انہوں نے  عبداللہ کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کے لئے فیڈریشن کا "ہنگامی اجلاس" دس دن بعد بلا لای۔ کبڈی فیڈریشن ان تمام کھلاڑیوں کے خلاف بھی کارروائی کرنا چاہتی ہے جو بحرین میں ہونے والے اس پرائیویٹ کبڈی ٹورنامنٹ میں "پاکستان" کے نام سے  میدان میں لائی گئی ٹیم کی طرف سے کھیلے۔ فیڈریشن کا کہنا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی اجازت لے کر بحرین نہیں گیا۔
 

مذموم حرکت کے بعد عبداللہ کا مؤقف
 عبداللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ میں نے تو کمنٹیٹر سے کہا تھا کہ وہ اعلان کرکے کہے کہ یہ انڈیا پاکستان کا میچ نہیں ہے بلکہ لوکل کپ ہے۔
عبیداللہ راجپوت نے کہا کہ ہرسال یہ ٹورنامنٹ بحرین میں ہوتا ہے، میں پہلے بھی اس کپ میں شرکت کرچکاہوں، پہلے جس ٹیم سے کھیلا تھا انہوں نے اس بار مجھے نہیں بلایا، دوسری ٹیم نےبلایا تو میں وہاں چلاگیا۔

عبداللہ نے دعویٰ کیا، "جھے پتہ نہیں تھا کہ ٹیموں کا نام انڈیا اور پاکستان رکھا جائےگا، گراؤنڈ میں داخل ہو رہا تھا تو دوستوں نے کہا کہ آپ انڈیا کی طرف سے کھیل رہے ہو، کمنٹیٹر کو کہاکہ وہ اعلان کرکے کہے کہ یہ انڈیا پاکستان کا میچ نہیں ہے بلکہ لوکل کپ ہے۔

 عبیداللہ راجپوت کا کہنا تھا کہ وہاں جا کر انڈیا پاکستان کے نعرے لگے، میرے ذہن میں ایسی کوئی بات نہیں تھی کہ نعرے لگیں گے اور جھنڈے لہرائے جائیں گے، یہ صرف ایک کپ ہے بلکہ ورلڈکپ نہیں تھا اور نہ ایسے ورلڈکپ ہوتاہے، اگر ورلڈکپ ہوتا تو میں ضرور پاکستان سے کھیلتا، میں پاکستانی ہوں، پاکستان پر جان بھی قربان ہے، کچھ لوگوں نے منفی کمنٹس بھی کیے، اگر میری وجہ سے کسی کا دل دکھی ہوا ہے تو معافی چاہتاہوں اور اپنی فیڈریشن، استاد اور چاہنےوالوں سے معذرت کرتاہوں، اس کپ کو کپ ہی رہنے دیں۔

 پاکستانی کبڈی کھلاڑی بھارتی ٹیم کا جھنڈا اٹھاکر میدان میں اترگیا، فیڈریشن کا سخت ایکشن کا اعلان 
 "ماضی میں نجی مقابلوں میں، ہندوستانی اور پاکستانی کھلاڑی ایک پرائیویٹ ٹیم کے لیے اکٹھے کھیل چکے ہیں لیکن کبھی ہندوستان یا پاکستان کے ناموں سے نہیں کھیلے۔ میں اس وقت تک اس تاثر میں نہیں تھا جب تک مجھے بعد میں پتہ چلا کہ مجھے ہندوستانی ٹیم کے لیے کھیلنے کے طور پر غلط طریقے سے پیش کیا گیا تھا، جو میں تنازع کے بعد کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔
واضح رہے کہ پاکستانی کبڈی کھلاڑی عبیداللہ کے بھارتی ٹیم کی جانب سے کھیلنے، شرٹ پہننے اور بھارتی جھنڈا لہرانے کے معاملے پر پاکستان کبڈی فیڈریشن کی جنرل کونسل نے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔

فیڈریشن سیکرٹری رانا سرور کا کہنا تھا کہ چیئرمین چوہدری شافع حسین نے 27 دسمبر کو اجلاس طلب کیا ہے، بحرین میں ہونے والے ٹورنامنٹ میں پاکستان کے 16 کھلاڑیوں نے شرکت کی، پاکستان کی یہ قومی ٹیم نہیں تھی اور نہ ہی اس کی اجازت طلب کی گئی، نہ ان کھلاڑیوں کو این او سی جاری کیا گیا۔

رانا سرور کا کہنا تھا کہ قومی کھلاڑی کا بھارتی ٹیم کی جانب سے کھیلنا اور جھنڈا لہرانا ناقابل برداشت ہے، معاملے کی تحقیقات کی جائیں گی اور سخت ترین ایکشن لیا جائے گا ،خود ساختہ پروموٹرز کے خلاف بھی ایکشن لیں گے ، کسی کو غیر قانونی ایونٹ کی اجازت نہیں دیں گے