سٹی42: یرغمالیوں کی رہائی کے لئے جنگ کی بجائے مذاکرات کرنے کے مطالبہ کو لے کر تل ابیب میں احتجاج کرنے والے اسرائیلی شہریوں کی تعداد 220,000سے زائد شمار کی گئی ہے۔آج انٹرنیشنل نیوز آؤٹ لیٹس کی اشاعتوں میں اسرائیل میں ہونے والے احتجاجوں کی ہزاروں تصویریں اور ویڈیوز سامنے آئیں اور سوشل آؤٹ لیتس بھی احتجاج کی تصویروں اور ویدیوز سے بھر گئیں۔
یرغمالیوں اور لاپتہ خاندانوں کے فورم نے پولیس کے اندازوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ تقریب دو لاکھ بیس ہزار لوگ تل ابیب کے ہوسٹیجز اسکوائر اور ارد گرد کی سڑکوں پر یرغمالی خاندان کے افراد کی جانب سے منعقدہ ایک ریلی کے لیے جمع ہوئے ہیں۔
اسرائیل کے مرکزی شہر تل ابیب میں آئی ڈی ایف کا ہیڈکوارٹر کریا 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیلی شہروں اور گاؤں پر حملوں میں لوگوں کے اغوا کے بعد سے پبلک کے احتجاج کا مرکز ہے اور اس علاقہ میں ایک بڑے چورے کا نام ہی ہوسٹیجز سکوائر / یرغمالیوں کا چوک پڑ گیا ہے۔ کل اتوار کے روز اسرائیل بھر میں پرائم منسٹر نیتن یاہو کی غزہ جنگ کو غزہ سٹی کے وسطی علاقوں تک پھیلانے کی پالیسی کے خلاف احتجاج کے لئے سینکڑوں جگہ پر لوگ جمع ہوئے لیکن سب سے بڑا اجتماع تل ابیب مین فوج کے ہیدکوارٹر کے علاقہ میں ہوا۔ اس علاقہ میں دور دور تک سڑکیں عوام سے بھری رہیں۔ کریا ہیڈکوارٹر کے قریب یرغمالیوں کے عزیزوں کے فورم نے احتجاجاً کی جا رہی ملک گیر ہڑتال کی رسمی ابتدا نیوز کانفرنس سے کی، اس علاقہ سے بہت دور تک سڑکیں احتجاج کرنے والوں سے بھر گئیں، یہ لوگ رات دیر تک سڑکوں پر موجود رہے۔ 
آج میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ہوسٹیجزسکوائر میں تقریباً 150,000 لوگ جمع ہوئےاور 70,000 مزید شہری ان کے ساتھ شامل ہوئے جنہوں نے یرغمالی خاندان کے افراد کے ساتھ سیویڈور ٹرین اسٹیشن سے ریلی کی طرف مارچ کیا۔

یہ ایک دن بھر جاری رہنے والے احتجاج اور ملک گیر ہڑتال کا اختتامی واقعہ تھا کس میں غزہ میں جنگ کو بڑھانے کے حکومتی فیصلے کی مخالفت کی جائے گی، بجائے اس کے کہ بقیہ یرغمالیوں کی واپسی کے لیے کسی معاہدے پر بات کی جائے۔
پرائم منسٹر نیتن یاہو نے عوام کے اس عظیم احتجاج کو غصے کے ساتھ مسترد کر دیا اور اپنی حماس کے سٹرونگ ہولڈ علاقے تصور کئے جانے والے وسطی غزہ اور دوسرے علاقوں میں فوجی کارروائی کرنے کی پالیسی کے صحیح ہونے پر اصرار کیا۔


نیتن یاہو کی حکومت کچھ بھی کرے، احجتاج کرنے والے جو کرین گے، اس کی نشان دہی، احتجاج میں شامل ایک یرغمالی کی والدہ نے یہ کہتے ہوئے کی، "یہ ابتدا ہے!"
پروٹیسٹر یہ بھی کہتے سنے گئے، ہمیں بار بار خلل ڈالتے رہنا چاہیے' لاکھوں اسرائیلیوں کا جو سیلاب اتوار کو تل ابیب کی سڑکوں پر آیا وہ غزہ جنگ کے مطالبہ کو لے کر اب بار بار آ سکتاہے۔
