ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے شہری کی عدم بازیابی کیس، آر پی او گوجرانولہ کو براہِ راست نگرانی کی ہدایت کردی ،26 ستمبر تک مہلت، عدالت نے موبائل فون ڈیٹا اور جیو فینسنگ کا ریکارڈ طلب کر لیا، عدالت نے دوران سماعت آر پی او گوجرانولہ طیب حفیظ چیمہ کی تعریف بھی کی۔
جسٹس فاروق حیدر نے شہری عثمان علی کی جانب سے دائر درخواست پر مغوی علی حسن کی عدم بازیابی کیس کی سماعت کی ،سماعت کے دوران آر پی او گوجرانولہ طیب حفیظ چیمہ، ڈی پی او منڈی بہاوالدین وسیم احمد اور ڈی پی او گجرات عدالت میں پیش ہوئے۔ آر پی او گوجرانولہ نے اب تک کیے گئے اقدامات کی رپورٹ عدالت کے روبرو پیش کی ،عدالت نے استفسار کیا کہ جس رات مغوی کو اغوا کیا گیا، کیا کسی کیمرے میں کوئی گاڑی نظر آئی؟ کیا مقامی لوگوں کے بیانات قلمبند کیے گئے؟ اس پر آر پی او گوجرانولہ نے بتایا کہ 13 مقامی افراد کے بیانات قلمبند کیے جا چکے ہیں۔
جسٹس فاروق حیدر نے ریمارکس دیے:"وہاں ٹاور ہوگا، اس رات کون کون سے موبائل کی موجودگی ظاہر ہو رہی ہے، یہ چیک کریں۔ ٹاور کے ڈیٹا سے پتہ چل جائے گا کہ یہ واقعی اغوا کا کیس ہے یا کچھ اور۔"ڈی پی او منڈی بہاوالدین نے مؤقف اختیار کیا کہ مغوی کے زیرِ استعمال چار موبائل نمبر بند ہیں اور جیو فینسنگ کے حوالے سے مطلوبہ ڈیٹا دستیاب نہیں۔ آر پی او گوجرانولہ نے عدالت کو بتایا کہ ٹاور ڈیٹا کے حصول کے لیے مزید وقت درکار ہے کیونکہ لاکھوں نمبرز سامنے آئیں گے۔جسٹس فاروق حیدر نے آر پی او گوجرانولہ طیب حفیظ چیمہ کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا:"آپ کی کارکردگی اور شہرت اچھی ہے، آپ خالی جمع تفریق نہیں کرتے۔ آپ خود اس معاملے کی نگرانی کریں جبکہ ڈی پی او منڈی بہاوالدین اور گجرات کوششیں جاری رکھیں۔"عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ اپنی نوعیت کا منفرد کیس ہے کیونکہ ایک طرف شہری کے اغوا کا مقدمہ درج ہے جبکہ دوسری جانب اسے اشتہاری بھی قرار دیا گیا ہے۔عدالت نے مغوی کی بازیابی کے لیے براہِ راست اقدامات کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے آر پی او گوجرانولہ کو 26 ستمبر تک مہلت دے دی اور مزید سماعت اسی تاریخ تک ملتوی کر دی۔