ویب ڈیسک: وفاقی حکومت نے گھریلو صارفین کے لیے آر ایل این جی پر مبنی گیس کنکشنز فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ وزارت توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) نے اوگرا، سوئی ناردرن اور سوئی سدرن گیس کمپنیوں کو ہدایات جاری کر دی ہیں کہ وہ فوری طور پر نئے کنکشنز کی پروسیسنگ کا آغاز کریں۔
حکومتی فیصلے کے مطابق نئے صارفین کو سبسڈی کے بغیر، صرف آر ایل این جی پر مبنی ٹیرف پر گیس فراہم کی جائے گی۔ کابینہ نے اس مقصد کے لیے ایک فریم ورک کی بھی منظوری دی ہے جس کے تحت گھریلو کنکشنز کا سالانہ ہدف اوگرا مقرر کرے گا، جو آر ایل این جی کی دستیابی اور کمپنیوں کی پروسیسنگ صلاحیت کے مطابق ہوگا۔
جن صارفین نے پہلے ہی کنکشن فیس یا ڈیمانڈ نوٹ ادا کیا ہے، انہیں ترجیح دی جائے گی لیکن انہیں سیکیورٹی کا فرق ادا کرنا ہوگا اور نیا معاہدہ سائن کرنا ہوگا۔ تمام درخواستوں کی نئی میرٹ لسٹ ڈیمانڈ نوٹ یا سیکیورٹی فیس کی ادائیگی کی تاریخ کے مطابق بنائی جائے گی۔
اوگرا کے مطابق، آر ایل این جی کا موجودہ نرخ تقریباً 4000 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو (بشمول سیلز ٹیکس) ہے، جو ہر ماہ تبدیل ہوگا۔ اس کے برعکس، مقامی گیس کا گھریلو صارفین کے لیے اوسط نرخ تقریباً 2000 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہے۔
ذرائع کے مطابق نئے آر ایل این جی بیسڈ کنکشن کے لیے سیکیورٹی فیس 20 ہزار روپے رکھی گئی ہے۔ 10 مرلہ گھروں کے لیے سروس چارجز 1500 روپے اور اس سے بڑے گھروں کے لیے 3000 روپے ہوں گے۔ اس طرح 10 مرلہ گھر پر کنکشن کی لاگت 21 ہزار 500 روپے جبکہ بڑے گھروں کے لیے 23 ہزار روپے ہوگی۔
پرانے مقامی گیس کنکشنز کی میرٹ لسٹ کو کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔ نئی درخواستیں صرف آر ایل این جی پر مبنی کنکشنز کے لیے قبول کی جائیں گی۔
سوئی کمپنیاں اب صرف آر ایل این جی کی بنیاد پر نئے کنکشنز جاری کریں گی، اور ایک سال سے زائد عرصہ سے منقطع شدہ صارفین کو دوبارہ کنکشن دینے کی صورت میں بھی وہ آر ایل این جی پر منتقل کر دیے جائیں گے۔
فی الحال، ملک بھر میں 35 لاکھ سے زائد نئے کنکشنز کی درخواستیں زیر التوا ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے بنیادی ڈھانچے پر ریٹرن حاصل ہوگا، تاہم اس سے سردیوں میں قلت، ریکوریز میں کمی اور لائن لاسز جیسے مسائل بڑھنے کا امکان بھی ہے۔