سٹی42: ای چالان سے بچنے کے لئے موٹر بائیک اور کار کی نمبر پلیٹ کو چھپا کر ٹریفک رولز کی وائلیشن کرنے کے عادی اب ایسا پھنسیں گے کہ مدتوں اپنی حرکت پر پشیمان رہیں گے اور دوسروں کو سمجھایا کریں گے کہ چالان بھلے ہی ہو جائے، لیکن نمبر پلیٹ کبھی نہ چھپانا۔
موٹر سائیکل اور کار کی نمبر پلیٹ چھپا کر سڑک پر آنے والوں پر اب براہ راست ایف آئی آر درج ہو گی اور اس ایف آئی آر سے جان چھوٹنے کا کوئی راستہ نہیں ہو گا۔
کراچی ٹریفک کے ڈپٹی انسپیکٹر جنرل آف پولیس (ڈی آئی جی) پیر محمد شاہ نے عادی مجرموں کو خبردار کر دیا ہے کہ چالان سے بچنے کیلیے نمبر پلیٹ چھپانے واوں کےخلاف ایف آئی آر درج ہوگی۔ انہوں نے چالان کے جرمانوں میں کمی کرنے کو زیادتی بھی قرار دے دیا۔
ٹریفک مینیجمنٹ کمیٹی کا سربراہ پی ایچ ڈی ڈوکٹر ہو گا
کراچی چیمبر آف کامرس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ نے کہا کہ کراچی ٹریفک مینجمنٹ کمپنی کے ذریعے ٹرانسپورٹ کی انجینئیرنگ کریں گے، اس کمپنی کا چیف ایگزیکٹو ٹریفک مینیجمینٹ میں پی ایچ ڈی یا ماسٹرز ہونا چاہیے۔
پیر محمد شاہ نے کہا کہ ٹریفک رولز وائلیشن پر ہونے والے جرمانوں کی رقم سے شہر کا نقزہ بلیں گے۔ جرمانوں کی رقم کمپنی جمع کرے گی اور دو سال کے اندر شہر کا نقشہ تبدیل ہوجائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ای چالان سے ٹریفک حادثات میں اموات 96 سے کم ہوکر 46 ہوگئے ہیں۔ ہیوی گاڑیوں میں ٹریکر لگانا اب قانونا لازمی ہوگیا ہے اور اس وائلیشن پر ایک لاکھ روپے جرمانہ ہے۔ہ ڈمپروں کی فٹنس اور ٹریکنگ کے حوالے سے اقدامات کیے جارہے ہیں، جب تک ڈمپرز اور ہیوی وہیکلز میں ٹریکرز نصب نہیں ہونگے انہیں اجازت نہیں دی جائے گی۔موسم سرما میں ڈمپرز کے ٹائر اور بریکنگ سسٹم ربڑ ہونے کی وجہ سے حادثات بڑھ جاتے ہیں، ڈمپروں کی فٹنس اورلائسنس ترجیحی بنیادوں پر چیک کیے جائیں گے۔ پیر محمد شاہ نے کہا کہ ٹریفک انجینئرنگ مردہ گھوڑا ہے اسے زندہ نہ کریں۔
تین ارب روپے کے سمارٹ ٹریفک سگنل انسٹال کرنا پڑیں گے
ڈی آئی جی ٹریفک، کمشنر اور میئر کراچی نے کے ٹی ایم سی کی تجویز دی ہے جو کسی بھی وقت فعال ہوسکتی ہے، سمارٹ سگنل کی لاگت 75لاکھ روپے ہوگی، شہر میں 400 سمارٹ سگنلز کی ضرورت ہے۔ یہ سب سگنل انسٹال کرنے کی مجموعی لاگت تقریبا 30ارب روپے کے قریب بنتی ہے۔
ڈی آئی جی ٹریفک نے بتایا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ میں بھی جدت لائی جارہی ہے جو کراچی میں چار مقامات پر کمرشل وہیکلز کے فٹنس سینٹرز قائم کریگا۔ ڈی آئی جی ٹریفک نے بتایا کہ ای چالان کے بعد روزانہ اوسطاً 2 حادثاتی اموات ہورہی ہیں، گزشتہ ماہ ٹریفک کے باعث محض 46 اموات ہوئیں۔
جرمانے کا تعین مجرم کی استطاعت کی بنا پر دنیا میں کہیں نہیں ہوتا
پیر محمد شاہ نے کہا کہ دنیا میں جرمانوں کا مجرموں کی قوتِ برداشت کی بناء پر تعین نہیں کیا جاتا۔کسی وائلیشن کا پہلی مرتبہ ارتکاب پر سرکار نے جرمانہ معاف کیا گیا ہے۔ 11 سہولت سینٹرز میں جاکر ڈیجیٹل طریقہ کار سے پہلا جرمانہ معاف کروایا جاسکتا ہے۔
پیر محمد شاہ نے کہا کہ جرمانوں میں کمی کرنا قانون پر عمل کرنے والے شہریوں کے ساتھ زیادتی ہو گی۔
چالان سے بچنے کے لئے نمبر پلیت چھپانے کی سزا
ڈی آئی جی پیر محمد شاہ نے بتایا کہ چالان سے بچنے کیلیے نمبر پلیٹس چھپانے پر ایف آئی آر ہونی ہیں۔
ڈی آئی جی پیر محمد شاہ نے یہ بھی کہا کہ شاہراہ فیصل پر اتنے کیمرے لگ گئے ہیں کہ اب شہریوں کو پل صراط پر چلنا ہوگا۔ دسمبر سے شارع فیصل پر موٹر سائیکلوں کو بائیک لین پر چلانے کا قدم لیں گے۔انہوں نے کہا کہ شاہراہ فیصل موٹروے نہیں ہے اسی لیے 60 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار سے گاڑی چلانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ سسٹم کی کامیابی تبھی ممکن ہے کہ جب اس سسٹم کا خوف بیٹھتا ہے۔ اگر سسٹم کا خوف ہی نہیں ہوگا تو تبدیلی کیسے آئے گی۔
قبل ازیں کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر ریحان حنیف، بی ایم جی کے وائس چیئرمین جاوید بلوانی اور چئیرمین لاء اینڈ آرڈر کمیٹی رانا محمد اکرم نے بھی خطاب کیا۔