ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

  عالمی سائبر کرائم نیٹ ورک ہارٹ سینڈر گروپ پکڑ لیا گیا 

Heart Senders group nabbed, International Cyber Crimes gang busted, City42, Pakistan Cyber Crimes Investigation Agency, city42
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  ملتان میں حساس اداروں اور  نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی ملتان نے  خوفناک سائبر جرائم مین ملوث بین الاقوامی مجرموں کے گروہ کو بے نقاب کرنے میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے.

 پاکستان سے چلنے والے نوسر بازوں کے "ہارٹ سینڈر گروپ" کے خلاف امریکہ میں  ایف بی آئی اور ہالینڈ میں ڈچ پولیس  نے مشترکہ  تحقیقات کی اور ان کے پاکستان مین موجود ہونے کی نشاندہی کی تھی۔ اس سائبر کرائم  گروپ کی درجنوں ویب سائٹ بلاک کی گئیں لیکن ان کی کارروائیاں دلیری کے ساتھ جاری رہیں۔

دو ملکوں کے تحقیقاتی اداروں نے پاکستان کے حکام کو باضابطہ اس گروپ کی مجرمانہ سرگرمیوں سے آگاہ کیا، جس کے بعد   نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل  نے مکمل تفصیلات سے ملتان  کے متعلقہ ذمہ داروں  کو آگاہ کیا اور مزید کارروائی کے لیے  ملتان ٹیم   کو ذمہ داری دی ۔

 ملتان کی ٹیم نے دن رات   نگرانی اور تحقیقات کر کے سائبر کرائمز میں ملوث گروہ کے  21رارکان کا سراغ لگایا۔ اب حتمی اقدام کر کے اس گروہ کے متعدد ارکان کو پکڑ لیا گیا ہے۔ ،

اس خطرناک مجرمانہ گروہ کا سرغنہ  رمیض شہزاد  ہے۔ اس نے ہارڈسینڈر  گروہ بنایا اور انٹرنیشنل فراڈ شروع کئے۔  اس  کا گروہ  امریکیوں اور غیر ملکیوں سے کروڑ ڈالر کے فراڈ  کر چکا ہے جن کی تحقیقات امریکہ میں ایف بی آئی نے کی ہیں۔  یورپ کے کم از کم ایک ملک ہالینڈ میں بھی اس گروہ کی سرگرمیوں کی شکایات ملنے پر حکام نے تحقیقات کیں، انہوں نے بعد مین ایف بی آئی کے ساتھ مزید تحقیقات میں کولیبوریٹ کیا، پھر دونوں اداروں نے پاکستان کے سائیبر کرائمز کی تحقیقات کرنے والے حکام سے رابطہ کیا۔

 21 افراد پر مشتمل مجرمانہ گروہ کے سرغنہ رمیض کا تعلق لیہ کے گاؤں فتح پور سے نکلا ۔

اس نے لاہور کے بحریہ ٹاؤن  اور ملتان میں سبزہ۔ زار کالونی میں اپنے نیٹ ورک کے اڈے بنا رکھے تھے۔

 نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی  نے لاہور کی پوش آبادی  بحریہ ٹاؤن میں اس گروہ کی سرگرمیوں کے لئے استعمال ہونے والے  چار گھروں پر چھاپے مارے اور وہاں سے  بھاری مقدار میں ڈیجیٹل مواد برآمد کیا۔

 رمیض کے اب تک گرفتار  ہونے والے کارندوں میں محمد اسلم، عدیل عزیز، اسامہ نواز، عبدالمعیز اور شعیب نذیر شامل ہیں۔ 

ان کے  قبضے سے موبائل فونز، لیپ ٹاپس اور ڈیٹا سٹوریج ڈیوائسز برآمد کی جا چکی ہیں۔

 سائبر کرایمینلز کے اس گروہ کے ارکان پر  PECA 2016 اور تعزیراتِ پاکستان کی متعدد دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

 اب تک سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق گروہ کے سرغنہ رمیض نے پاکستان سے باہر بھی اپنے نیت ورک کی سرگرمیاں کرنے کے لئے کارندے ہائر کر رکھے ہیں۔ رمیض  شہزاد ابوظہبی بار بار  جاتا رہا۔

 عیار مجرم رمیض کی کروڑوں روپے مالیت کی قیمتی گاڑیاں اور دیگر اثاثے سرکاری تحویل مین  لے لئے گئے ہیں۔  

اس گروہ کے باقی کارندوں کی گرفتاریوں کے لئے متعلقہ حکام سرگرم ہیں۔ گرفتار ہو چکے مجرموں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں جن سے سنسنی خیز انکشافات ہونے  کی توقع ہے۔

اس گروہ کے کارندوں کے پاکستان سے فرار کا راستہ مسدود کر دیا گیا ہے، تمام کارندوں کے نام ایگزیٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیئے گئے ہیں۔