قبض کیوں ہوتی ہے،علاج کیا ہے؟

Constipation,reason,treatment
سورس: google
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)قبض کو تمام امراض کی ماں قرار دیا  گیا ہے۔قبض بہت سی تکالیف کی باعث بن جاتی ہے۔اگر اجابت معمول کے مطابق نہ آئے، تھوڑی تھوڑی ہو یا دوسرے تیسرے روز آئے تو یہ قبض کہلاتا ہے۔ باقاعدہ اجابت نہ ہونے سے طبیعت میں بھاری پن رہتا ہے اور بھوک بھی کم لگتی ہے کیونکہ جب آنتوں میں پہلے سے جگہ موجود نہ ہو تو نئی غذا کا داخل ہونا ممکن نہیں ہوتا ۔ 

 قبض کی علامات میں پاخانہ کرنے میں زور لگانا ، غیر معمولی تاخیر سے اجابت کا ہونا ، حد سے زیادہ گیس کا بننا اور خارج ہونا، کبھی کبھی پیٹ میں درد کا ہونا یا پیٹ کا پھول جانا ، سخت قبض کی وجہ سے خون کا آنا ، چڑچڑا پن ، سردرد کا ہونا ، سخت فضلہ شدید تناؤ یا زور لگانا پڑے اور فضلہ خارج نہ ہو پائے اور یہ محسوس کرنا جیسے آنتیں خالی نہیں ہو پائیں شامل ہے۔

 قبض سے بچنے کے لئے خشک میوہ جات کے استعمال کو ترجیح دیں۔ کھانوں میں زیتون، زیتون کے تیل اور اجوائن کا استعمال کریں۔ کیفین کے زیادہ استعمال سے پرہیز 

 دودھ اور دودھ کی مصنوعات کا استعمال زیادہ کریں۔ پانی اور پانی کی زیادہ مقدار والی غذاوں کا استعمال کریں۔ ایسی سبزیوں، پھلوں  اور اناج کا استعمال بڑھا دیں جن میں پوسے کی مقدار زیادہ ہو۔ کھانا کھاتے ہوئے لقمے کو اچھی طرح چبا کر نگلیں۔

 ایسے گرم مشروبات کا استعمال کیا جائے جو قبض کا سدّباب کرتے ہیں مثلاً پودینے کی چائے، سونف کی چائے، ادرک کی چائے، سیب کی چائے، بچھو بوٹی چائے، ڈینڈیلین چائے، ایکینیزیا چائے اور سینا چائےوغیرہ۔

 ناشپاتی، خوبانی اور  آلو بخارہ قبض میں مفید ثابت ہونے ہیں لہٰذا ان کے استعمال میں اضافہ کر دیں۔ ان پھلوں  کی چائے بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔

  حمل کے دوران ہارمونز کی تبدیلی اور جسم  کی تبدیلی قبض کا سبب بن سکتی ہے۔ حاملہ خواتین کے صحت مندانہ خوراک استعمال کرنے اور دن میں کم از کم 45 منٹ کی واک کرنے  کی تجویز پیش کی جا سکتی ہے۔ حمل کے دنوں میں قبض سے بچنے کے لئے کم وقفوں سے اور تھوڑی مقدار میں طرزِ خور و نوش  کو اختیار کرنا چاہیے۔

خشک آلو بخارہ  اور اناج والی غذائیں قبض کا حل ثابت ہو سکتی ہیں۔

قبض کا مسئلہ پیدا ہونے سے بچنے کے لئے دن میں کم از کم 2 لیٹر پانی کا استعمال کیا جائے۔

گھر کے بنے پھلوں کے جوس، ٹھنڈی چائے اور اسکنجبین  کو ترجیح دی جا سکتی ہے۔ مشروبات میں گیس والے یا کیفین والے مشروبات سے پرہیز کیا جانا چاہیے۔

 خاص طور پر خالی پیٹ خوبانی  کا استعمال انتڑیوں کو حرکت میں لاتا اور ٹائلٹ میں آسانی پیدا کرتا ہے۔ جلد سے جلد استفادے کے لئے صبح بیداری کے وقت نہار منہ ایک گلاس خوبانی کا جوس پیا جا سکتا ہے۔ ناشتے کے بعد 4 سے 5 عدد خشک خوبانی بھی نظام ہضم میں تیزی لانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ 

موسم کے مطابق تازہ  یا خشک آلو بخارے کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔چند دن صبح ناشتے میں کیلے کے استعمال سے قبض کے مسئلے پر بڑے پیمانے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

جو کا فلیک دلیہ   نیم گرم پانی سے نرم کر کے استعمال کیا جائے تو قبض پر قابو پایا جا سکتا ہے۔