ویب ڈیسک: پاکستانی اداکارہ اُشنا شاہ کے ماموں 75 برس کی عمر میں فوت ہو گئے۔
اُشنا شاہ نے آج اپنی ایک انسٹاگرام پوسٹ میں اپنے قریبی عزیز کی وفات کی اطلاع دی،لکھا کہ 'یہ شخص میرے لیے بہت زیادہ معنی رکھتا تھا، اس شخص نے اس ملک کو بہت کچھ دیا اور بہت کچھ قربان کیا۔ انہوں نے لکھا کہ 'انہیں کال بیک نہ کرنے کا پچھتاوا ساری زندگی میرے ساتھ رہے گا، کیونکہ میں اب کبھی کال بیک نہیں کر سکتی، لیکن میں انکے بارے میں آپ سب کو بہت سی باتیں بتا سکتی ہوں'۔
اشنا شاہ نے لکھا کہ 'ریٹائرڈ کرنل قاضی زاہد اللہ خان اُن سب سے قابل ذکر انسانوں میں سے ایک تھے جنہیں میں جانتی ہوں، باوقار، دلکش، اور انتہائی ہینڈسم، وہ ہمیشہ ایک نئی کار میں آتے تھے جس میں ان کے کولون کی مہک اور سگار کی بو آتی تھی، ان کی حسِ مزاح کمال تھی، حاضرِ جواب تھے، اور ان کے پاس سنانے کے لیے ہمیشہ ایک عمدہ کہانی ہوتی تھی'۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 'وہ ہر وقت مذاق کرتے رہتے تھے، کبھی کسی کی ٹانگ کھینچنے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے، وہ ہمیشہ میرے ساتھ کھڑے ہوتے تھے، خاص طور پر میری مما کو ہم دونوں ملکر چھیڑتے تھے'۔
طویل ترین پوسٹ میں مرحوم سے اپنی اصل رشتہ داری واضح کیے بغیر انہوں نے مزید لکھا کہ 'ہمارے لیے وہ فیملی سے بڑھ کر تھے، وہ ہمارے قاضی انکل تھے، ہمارے پسندیدہ، ہمارے خود ساختہ ماموں، ہر جگہ کو گرم جوشی اور قہقہوں سے بھرنے والے'۔
اشنا شاہ نے بتایا کہ 'انہوں نے اپنی زندگی پاک فوج کے لیے وقف کر دی تھی، 1996 میں، کشمیر میں ایک مشن کے دوران، وہ ایک ہیلی کاپٹر کے حادثے میں بال بال بچے، تاہم اس اس حادثے نے انہیں شدید اعصابی صدمہ پہنچایا جو پارکنسنز میں تبدیل ہو گیا، اس بیماری کیخلاف جنگ بھی انہوں نے بہادری کے ساتھ لڑی، اگرچہ اس حادثے میں انکی جان نہیں گئی تھی لیکن اپنے زخموں کی وجہ سے انہوں نے بہت کچھ کھو دیا، میرے دل میں انکا درجہ ہمیشہ شہید کا رہے گا'۔
انہوں نے مزید لکھا کہ 'وہ افطار کے بعد، وضو کی حالت میں دل کا دورہ پڑنے سے، اپنی 75ویں سالگرہ سے چند گھنٹے قبل انتقال کر گئے، پاکیزگی کی حالت میں اپنے خالق سے ملنا ان کی زندگی کو عیاں کرتا ہے۔
اشنا شاہ نے مزید بتایا کہ 'وہ ہمیشہ ہر جگہ پہنچ جاتے تھے، چاہے پارکنسنز کیوجہ سے انکا چلنا پھرنا یا بولنا کتنا ہی مشکل ہوگیا تھا، لیکن وہ پھر بھی کوشش کرتے رہتے، وہ ہماری شادی میں آئے تھے، چھڑی کے ساتھ چل رہے تھے، اُن سے بمشکل کھڑا ہوا جارہا تھا، لیکن پھر بے وہ بےمثال لگ رے تھے، انہوں نے مجھے قیمتی سونے کی بالیاں تحفے میں دیں، انکی محبت کی نشانی جو ہمیشہ میرے پاس، میرے بچوں اور ان کے بچوں کو پاس رہے گی'۔
طویل ترین پوسٹ کا سلسلہ کمنٹ سیکشن میں جاری رکھتے ہوئے اُشنا شاہ نے مزید لکھا کہ 'وہ ہمیشہ فون کرتے تھے اور آخری بار جب انہوں نے چند ہفتے پہلے فون کیا، تو میں کسی مصروفیت کیوجہ سے فون نہ اٹھاسکی، میں نے سوچا تھا کہ میں انہیں کال بیک کروں گی، لیکن میں نے نہیں کی اور اب مجھے زندگی بھر اس کا پچھتاوا رہے گا، مجھے کال بیک کرنا کیوں یاد نہ رہا؟ میں اسلام آباد میں انہیں دیکھنے کیوں نہیں گئی؟ میں نے کیوں سوچا کہ میرے پاس ان سب چیزوں کیلئے بہت وقت ہے؟ مجھے کیوں احساس نہیں ہوا کہ دنیا کسی کیلئے نہیں تھمتی؟
انہوں نے پوسٹ پڑھنے والوں سے التجا کی 'براہ کرم وہ غلطی نہ کریں جو میں نے کی، یہ آپ کو ہمیشہ کے پچھتاوے میں مبتلا کردے گی جس سے آپ کبھی بھی چھٹکارا نہیں پا سکیں گے، براہ کرم انہیں کال بیک کریں، انہیں گلے لگائیں، ان کے لیے وقت نکالیں'۔
پوسٹ کے آخر میں اشنا شاہ نے بتایا کہ وہ اپنے سوگواران میں اپنی اہلیہ سلمیٰ زاہد، اپنے بچوں، قاضی کاشف اللہ، فائزہ کاشف، نوری فرحان خان، اور اپنے پوتے، سحر عامر، عمائمہ قاضی، اریشہ فاطمہ قاضی، ماہنور خان، حیا رضا خان، میرہ خان، رافع خان، یاور رضا خان اور مجھے، اپنی 'اچو' کو چھوڑ گئے ہیں جو زندگی بھر انہیں یاد کرتی رہے گی'۔
انہوں نے مزید لکھا کہ 'میں آپ سب سے گزارش کرتی ہوں کہ آپ ریٹائرڈ کرنل قاضی زاہد اللہ خان کے لیے فاتحہ پڑھیں اور دعا کریں، ان کی روح کو سکون ملے اور خدا انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے'۔