سٹی 42: سندھ حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں، صحت، ہاؤسنگ اور ہنگامی خدمات کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق مختلف شعبوں میں ترقیاتی سرگرمیوں کے فروغ اور عوامی سہولیات کی بہتری کے لیے متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھے گئے ہیں۔
صوبائی حکومت نے آئندہ مالی سال کے دوران 555 ارب روپے محصولات جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس میں محکمہ ریونیو کے لیے 42 ارب روپے جبکہ سندھ ریونیو بورڈ کے لیے 456 ارب روپے کا ہدف تجویز کیا گیا ہے۔
بجٹ میں صوبائی ترقیاتی پروگرام (ADP) کے لیے 385 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ ضلعی ترقیاتی پروگرام کے لیے 15 ارب روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
شہری ٹرانسپورٹ کے اہم منصوبے کراچی یلو لائن بی آر ٹی کے لیے 22 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ شہر میں عوامی سفری سہولیات کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
بجٹ میں سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن کے لیے 26 ارب روپے گرانٹ کی مد میں رکھنے کی تجویز شامل ہے، جبکہ سندھ پیپلز ہاؤسنگ اسکیم کے لیے بھی 22 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں تھر کول منصوبوں کے لیے 10 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ لیاری ترقیاتی پیکیج کے لیے 4 ارب روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں شہید بینظیر آباد ٹراما سینٹر کے لیے 4 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے محکمہ فائر بریگیڈ کی اپ گریڈیشن کے لیے 3.8 ارب روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
بجٹ تجاویز کے مطابق ہنگامی امدادی خدمات کو بہتر بنانے کے لیے ریسکیو 1122 کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز بھی شامل کی گئی ہے۔ سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ ان فنڈز کے ذریعے عوامی خدمات، بنیادی ڈھانچے اور فلاحی منصوبوں کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔