سٹی42: عدالت نے قومی کرکٹ ہیرو کو ملک چھوڑنے سے روک دیا۔
بنگلہ دیش کے قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کیپٹن شکیب الحسن کو کرپشن کے الزامات کی تحقیقات کے درمیان ملک چھوڑنے سے روک دیا گیا ہے۔
بنگلہ دیش کے میڈیا مین شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ڈھاکہ کی عدالت نے سابق رکن پارلیمنٹ اور کرکٹر شکیب الحسن کے ساتھ 14 دوسرے افراد پر بھی ملک سے باہر سفر نہ کرنے کی پابندی عائد کردی ہے۔
عدالت نے یہ حکم اینٹی کرپشن کمیشن (اے سی سی) کی درخواست پر جاری کیا۔
درخواست میں اے سی سی نے کہا کہ وہ بڑے پیمانے پر بدعنوانی کے الزامات پر ان افراد سے تفتیش کررہا ہے۔
شکیب الحسن کرکٹ کھیلتے ہوئے بنگلہ دیش کے عوام مین بہت زیادہ مقبول ہو گئے تو انہوں نے سیاست میں چھلانگ لگا دی تھی، انہوں نے سابق حکمران پارٹی عوامی لیگ کی وزیراعظم حسینہ واجد کے کہنے پر عوامی لیگ میں شامل ہو کر پارلیمنٹ کا الیکشن لرا تھا اور جیت گئے تھے، شکیب الحسن کی بدقسمتی سے اس کے کچھ ہی عرصہ بعد عوام کے احتجاج نے عوامی لیگ کی پرائم منسٹر حسینہ واجد کا تختہ الٹ دیا اور وہ بنگلہ دیش چھور کر انڈیا بھاگ گئیں۔
تب سے عوامی لیگ کے بہت سے لیڈروں کے ساتھ شکیب الحسن بھی تادیبی کارروائیوں کی زد میں ہیں۔ بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم میں ان کا مستقبل بھی مخدوش ہو گیا ہے تاہم وہ کرکٹ کی انٹرنیشنل لیگز کیلئے ہمیشہ کی طرح اب بھی ایک ہاٹ کیک ہیں۔
شکیب کے خلاف درخواست ڈھاکہ کی عدالت میں اس وقت دائر کی گئی جب اینٹی کرپشن کمیشن کو یہ شبہ ہوا کہ وہ بیرون ملک جا کر وہین رک سکتے ہیں۔ اینٹی کرپشن کا دعویٰ ہے کہ انہین یہ اطلاع قابل اعتماد انٹیلی جنس ذریعہ سے موصول ہوئی کہ شکیب ملک سے فرار ہونے کی کوشش کر سکتا ہے۔
تجربہ کار آل راؤنڈر پر گزشتہ سال بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت گرائے جانے کے بعد قتل کا الزام عائد کیا گیا تھا۔شکیب الحسن کا شمار بنگلہ دیش کے کرکٹ لیجنڈز میں ہوتا ہے۔کیریئر میں انہوں نے بنگلہ دیشی کرکٹر نے بین الاقوامی کرکٹ میں 700 وکٹوں کے ساتھ 14,000 سے زیادہ رنز بنائے ہیں۔