سٹی 42: سابق وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کو حکومتی بد انتظامی قرار دے دیا ۔
گوہر اعجاز کا کہنا تھا کہ بجلی کا بحران بد انتظامی کی وجہ سے پیدا ہوا ہے ۔صنعتوں کو 2 سے 4 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔گھریلو اور کمرشل صارفین کو 7 سے 16 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے۔بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کے باوجود لوڈ شیدنگ حیران کن ہے۔ابھی تو موسم گرما کا آغاز ہوا ہے۔موسم گرما کے آغاز پر ہی بجلی کا شارٹ فال 4090 میگا واٹ تک پہنچ چکا ہے۔ جون سے اگست کے دوران بجلی کا شارٹ فال مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
46 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے ۔پیک آورز میں بجلی کی طلب 20 ہزار 520 میگا واٹ ہے ۔ بجلی کی پیداوار 13ہزار 958 میگا واٹ ہے۔جون سے اگست کے دوران بجلی کی ڈیمانڈ 30 ہزار سے 33 ہزار میگا واٹ تک پہنچ سکتی ہے ۔اگر حکومت آج بجلی کی ڈیمانڈ پوری نہیں کر پا رہی تو جون تا اگست کیسے ہوگی ؟ بجلی بحران پاور سیکٹر کی بد انتظامی اور ناکامی ہے۔پن بجلی کا سستا منصوبہ نیلم جہلم ہائیڈرو پراجیکٹ بند پڑا ہوا ہے ۔
گیس کی ناقص تقسیم کے باعث گیس پاور پلانٹس کو استعمال نہیں کیا جا رہا ۔ رات کے اوقات میں ڈیمانڈ بڑھنے سے سولر بجلی کی سپلائی رک جاتی ہے ۔بجلی کا ترسیلی نظام مطلوبہ علاقوں تک بجلی پہنچانے کی صلاحیت نہیں رکھتا ۔
گوہر اعجاز کا کہنا تھا کہ عوام 46 ہزار میگاواٹ بجلی کے کیپسٹی چارجز ادا کر رہے ہیں ۔کیپسٹی چارجز ادائیگی کے باوجود عوام کو بجلی نہیں مل پا رہی۔بجلی کی پیداواری صلاحیت موجود ہے ۔سوال یہ ہے کہ لوڈ منیجمنٹ کون اور کیسے کر رہا ہے ۔
Pakistan's Power Crisis Isn't About Capacity, It's About Management!
— Dr Gohar Ejaz (@Gohar_Ejaz1) April 17, 2026
It is astonishing that with an installed capacity of 46,605 MW, industry is facing 2 to 4 hours of load-shedding, while domestic and commercial consumers are enduring 7 to 16 hours of darkness every single day.…