ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ کے سینئر ترین ججز میں شمار ہونے والے جسٹس شجاعت علی خان آئندہ ہفتے 22 اپریل کو اپنی مدتِ ملازمت مکمل کرکے ریٹائر ہو جائیں گے۔ ان کی ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی لاہور ہائیکورٹ میں موجودہ ججز کی تعداد کم ہوکر 41 ہو جائے گی جبکہ خالی آسامیوں کی تعداد بڑھ کر 19 تک پہنچ جائے گی۔
جسٹس شجاعت علی خان کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر 22 اپریل کو لاہور ہائیکورٹ میں ایک الوداعی تقریب کا انعقاد کیا جائے گا، جس میں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سمیت پرنسپل سیٹ پر تعینات تمام ججز شرکت کریں گے۔ تقریب میں ان کی عدالتی خدمات، قانونی مہارت اور طویل عدالتی کیریئر کو خراجِ تحسین پیش کیا جائے گا۔,جسٹس شجاعت علی خان 27 مارچ 2012 کو لاہور ہائیکورٹ کے جج کے طور پر تعینات ہوئے تھے اور تقریباً 13 سال سے زائد عرصہ تک وہ عدالتی فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔
اپنے طویل دورِ ملازمت میں انہوں نے مختلف نوعیت کے اہم اور پیچیدہ مقدمات کی سماعت کی اور کئی معاملات میں اہم عدالتی رائے دی۔وہ اس وقت لاہور ہائیکورٹ کی سنیارٹی لسٹ میں دوسرے نمبر پر فائز ہیں، جس سے ان کی عدالتی حیثیت اور تجربے کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ ان کی ریٹائرمنٹ کو عدالتی حلقوں میں ایک اہم تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ان کی ریٹائرمنٹ بعد ہائیکورٹ میں ججز کی خالی آسامیوں میں اضافہ ہوگا اور ان کی تعداد بڑھ کر 19 ہو جائے گی۔