طوفانی بارشوں کا سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟ محکمہ موسمیات نے پریشان کن پیشگوئی کردی


(سٹی 42) لاہور میں تیز ہواؤں اور بارش نے تباہی مچادی، کئی گھروں کی چھتیں اُڑ گئیں، درخت اکھڑ گئے اور نشیبی علاقوں میں پانی بھر گیا، مضافاتی علاقوں میں فصلیں برباد ہوگئیں، محکمہ موسمیات نے طوفانی بارشوں کا سلسلہ کل تک جاری رہنے کی پیشگوئی کردی۔

گزشتہ روز شہر میں ہونے والی موسلا دھار بارش نے ایک طرف موسم خوشگوار بنا دیا تو دوسری جانب سڑکوں پر جمع پانی سے واسا کی کارکردگی کا پول کھول کر رکھ دیا، طوفانی بارش کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام شدید متاثر ہوا، لیسکو کے 260 فیڈرز ٹرپ ہونے کی وجہ سے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی، شدید بارش کے باعث شہر کے بیشترعلاقوں گلاب دیوی، محمود چوک، مسلم ٹاؤن موڑ، لنک روڈ موچی پورہ، انڈر پاس جیل روڈ، شوق چوک، اللہ ہو چوک، مال روڈ، جی پی او چوک پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک بلاک رہی۔

وقفے وقفے سے ہونے والی بارش سے نہ صرف سڑکیں ندی نالے کا منظر پیش کرنے لگیں بلکہ ضلعی انتظامیہ کے صفائی کے حوالے سے دعوؤں کی قلعی کھول دی، طوفانی بارش نے کسانوں کی سال بھر کی محنت پر پانی پھیر دیا، دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب نے عوام سے طوفانی بارشوں کے تھمنے کی اللہ کے حضور عاجزی سے دعا کرنے کی اپیل کردی۔

 واسا ریکارڈ کے مطابق سب سے زیادہ بارش اپر مال پر 26 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی جبکہ جیل روڈ پر 12 ملی میٹر، ائیر پورٹ پر 14 ملی میٹر، لکشمی چوک میں 13 ملی میٹر ، مغلپورہ میں 18 ملی میٹر، تاجپورہ میں 15 ملی میٹر، گلشن راوی میں 13 ملی میٹر، علامہ اقبال ٹاؤن میں 13 ملی میٹر ، سمن آباد میں 12 ملی میٹر اور جوہر ٹاؤن میں 11 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق آج لاہور شہر کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 21 اور کم سے کم 16 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے، ہوا 16 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہے، جبکہ ہوا میں نمی کا تناسب 73 فیصد ہے۔ ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ بارش کا سلسلہ کل شام تک جاری رہنے کا امکان ہے۔

صوبائی وزیر بلدیات بشارت راجہ نے محکمہ بلدیات کو حالیہ بارشوں سے پیدا ہونے والے مسائل کے ازالے کے لیے فوری اقدامات کی ہدایات جاری کر دیں، بشارت راجہ نے کہا ہے کہ بالخصوص اندرون شہر اور متصل آبادیوں سے پانی کی نکاسی کو یقینی بنایا جائے، خستہ حال عمارتوں کو نوٹس دیئے جائیں اور مزید متوقع بارشوں کے پیش نظر اپنے عملے اور مشینری کو الرٹ رکھا جائے۔