ملک اشرف : پنجاب بار کونسل نے ملازمت، کاروبار یا دیگر نااہلیاں چھپا کر وکالت کا لائسنس حاصل یا برقرار رکھنے والے وکلاء کو آخری مہلت دیتے ہوئے رضاکارانہ طور پر لائسنس جمع کروانے کی مدت میں 31 مئی تک توسیع کر دی ہے۔
سیکرٹری پنجاب بار کونسل رفاقت سوہل کے دستخطوں سے باقاعدہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔ جس کے مطابق پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین اور چیئرمین ایگزیکٹو کی منظوری سے اس سے قبل جاری کیے گئے آرڈر نمبر 4469 مورخہ 16 اپریل 2026 کے تحت ایسے وکلاء کو اپنے لائسنس رضاکارانہ طور پر سرنڈر کرنے کا موقع دیا گیا تھا جنہوں نے ملازمت، کاروبار یا دیگر نااہلی کو مخفی رکھتے ہوئے وکالت کا لائسنس حاصل کیا یا برقرار رکھا۔ متعدد وکلاء نے اس اسکیم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے لائسنس جمع کروائے، جس پر انہیں عام معافی بھی دی گئی۔ بعد ازاں موصول ہونے والی درخواستوں اور مزید وکلاء کو رعایت دینے کے پیش نظر عام معافی کی مدت میں پندرہ روز کی توسیع کا فیصلہ کیا گیا۔
نئے اعلامیے کے مطابق اب رضاکارانہ طور پر لائسنس جمع کروانے کی آخری تاریخ 31 مئی 2026 مقرر کر دی گئی ہے جبکہ پہلے جاری کیے گئے تمام دیگر قواعد و شرائط بدستور نافذ العمل رہیں گے۔اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ مقررہ مہلت کے اندر تعمیل نہ کرنے والے وکلاء کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں لائسنس کی منسوخی اور فوجداری مقدمات کا اندراج بھی شامل ہوگا۔ پنجاب بار کونسل نے خبردار کیا ہے کہ کارروائی پنجاب لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسل رولز کے تحت کی جائے گی۔ سیکرٹری پنجاب بار کونسل رفاقت سوہل کا کہنا ہے کہ قانونی پیشے کے وقار، شفافیت اور سالمیت کو برقرار رکھنے کیلئے سخت اقدامات ناگزیر ہیں اور اس نوٹس کو حتمی تصور کیا جائے۔