(سٹی 42)ملکی دفاعی بجٹ3ہزارارب روپےمختص کیاگیاہے،بجٹ میں اضافہ افراط زرکی شرح کودیکھتےہوئےکیاگیا،دفاعی بجٹ کا80فیصدسے زائد پٹرولیم مصنوعات، راشن، تعمیر و مرمت پرخرچ کیاجاتاہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بھارت کادفاعی بجٹ تقریباً93ارب ڈالرکےقریب ہے،مسلح افواج کوروایتی اورغیرروایتی خطرات کاسامناہے،انڈس واٹرٹریٹی کے حوالےسے پاکستان کامؤقف واضح ہے،پاکستان اپنےمفادات کےتحفظ کیلئےہرحدتک جائےگا،اپنےمفادات کاتحفظ کرناجانتےہیں اورکریں گے،وقت آنےپراسٹیٹس کوبحال کرکے دکھائیں گے،مسلح افواج ملکی مفادات کاتحفظ کرناجانتی ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ مسلح افواج ملکی دفاع کیلئےہروقت تیارہیں،بھارت عالمی قوانین کےتحت انڈس واٹرٹریٹی پریکطرفہ فیصلہ نہیں کرسکتا،بلوچستان کےحوالے سےریاست کی سوچ واضح ہےدہشتگردتنظیموں کوبھارت اسپانسرڈ کررہاہے،کئی غیرملکی ایجنسیاں بھی بلوچ تنظیموں کوسپورٹ کررہی ہیں،سدشمن عناصربلوچستان کی ترقی نہیں چاہتے،بلوچستان میں پائیدارترقی کیلئےاقدامات کیےجارہےہیں،ضلعی سطح پرترقیاتی منصوبوں پرکام ہورہاہے۔