سٹی42: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات سمیت مجموعی طور پر 159 ارکان پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی کی رکنیت معطل کر دی ہے۔ یہ فیصلہ ان اراکین کے خلاف کیا گیا جنہوں نے اثاثہ جات کے گوشوارے مقررہ مدت یعنی 15 جنوری تک جمع نہیں کروائے۔
معطل ہونے والے ارکان کی تفصیل کے مطابق قومی اسمبلی کے 32، پنجاب اسمبلی کے 50، سندھ اسمبلی کے 33، خیبر پختونخوا اسمبلی کے 28، بلوچستان اسمبلی کے 7 اور سینیٹ کے 9 اراکین کی رکنیت معطل کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق لاہور کے ارکان پنجاب اسمبلی ملک غلام حبیب اعوان اور امتیاز محمود بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ دیگر اہم معطل ارکان میں وفاقی وزیر مصدق ملک، خالد مقبول صدیقی، ارشد وہرا، سردار اختر مینگل، سید عبدالقادر گیلانی، علی موسیٰ گیلانی، سائرہ افضل تارڑ اور مہرین رزاق بھٹو شامل ہیں۔
سینیٹ سے فوزیہ ارشد، عابد شیر علی، مراد سعید اور نور الحق قادری کی رکنیت بھی معطل کی گئی ہے۔
رکنیت معطل ہونے والے ارکان اسمبلی اپنی رکنیت بحال ہونے تک پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی کی کسی کارروائی میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے واضح کیا ہے کہ ارکان اسمبلی کو 15 جنوری تک اپنے اثاثہ جات کے گوشوارے جمع کروانے کی مہلت دی گئی تھی۔ تاہم مقررہ مدت تک گوشوارے جمع نہ کروانے والے ارکان اسمبلی کی رکنیت فوری طور پر معطل کر دی گئی ہے۔