سٹی42: آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز نے ہسپتال جا کر سڈنی ٹیررسٹ حملےکے ہیرو احمدکی عیادت کی اور احمد کا ٹیررسٹوں کا دلیری سے سامنا کرنے پر شکریہ ادا کیا۔
آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز سڈنی حملے میں اپنی جان کی پروا کیے بغیر حملہ آور پر قابو پانے والے احمد الاحمد سے ملنے کے لئے مقامی ہسپتال گئے تو انہوں نے اپنی قوم کے نئے ہیرو کی خوب تعریف کی۔ انہوں نے احمد کی بہادری کو آسٹریلین کلچر کی روح قرار دیا۔ دہشتگرد کو پکڑنے کی کوشش میں احمد نے چار گولیاں کھائیں لیکن جسے پکڑ لیا، اس کو چھوڑا نہیں۔
پرائم منسٹر انتھونی البانیز نے سپتال میں احمد کے ساتھ کچھ وقت گزارا۔
انتھونی البانیز جو خود بھی ایک دلیر آسٹریلین ہیں، وہ ذاتی طور پر احمد سے بے حد متاثر نظر آئے۔
دو دن پہلے سڈنی کے پر ہجوم ساحلی علاقہ بونڈی بیچ پر2 دہشتگردوں نے آٹو میٹک ہتھیاروں سے وہاں موجود شہریوں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی تھی، ان دہشتگردوں کی فائرنگ سے بہت زیادہ لوگ مرتے لیکن احمد وہاں موجود تھا، احمد نے ڈر کر بھاگنے کی بجائے، مسلح دہشتگردوں پر ہاتھ ڈال دیا، ایک دہشتگرد کو قابو کر لیا اور ایسا قابو کیا کہ وہ ان کی گرفت سے نکل نہین سکا، دوسرا دہشتگرد اپنے تھیار سے فائرنگ کرتا ہوا وہاں سے فرار ہو گیا۔ دشہتگردوں کی فائرنگ کے نتیجے میں تب تک 16 افراد جاں بحق ہو چکے تھے۔ براہ راست گولیاں لگنے سے 40 کے قریب شہری زخمی ہوگئے تھے۔

آسٹریلیا بیچ واقعہ کو سینکڑوں افراد نے دیکھا، ان سب نے اپنی جان کی پراوہ نہ کرتے ہوئے نہتے شہریوں کی ھفاظت کی خاطر ایک حملہ آور کو قابو کرنے والے نوجوان احمد الاحمد کو آسٹریلین ہیرو قرار دیا۔

آسٹریلین پولیس نے واقعے کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے بتایا کہ جس دہشتگرد کو احمد نے قابو کر لیا اس کا ساتھی ڈر کر بھاگا تو وہ پولیس کی فائرنگ کی زد میں آ کر مارا گیا۔ احمد نے جسے قابو کیا تھا وہ دہشتگرد زندہ حالت میں پولیس کی تحویل میں گیا اور اب اس سے اس ہول ناک دہشتگردی کے پس مردہ عوامل کے متعلق تفتیش کی جا رہی ہے۔
آسٹریلوی میڈیا کے مطابق ایک حملہ آور کو وہاں موجود ایک شہری نے اپنی جان پر کھیل کر بہادری سے پکڑا اور اس کا اسلحہ چھین کر متعدد لوگوں کی جانیں بچائیں۔ اس بہادر شہری احمد الاحمد کا سڈنی میں پھل کا بزنس ہے۔ وہ ایک چھوٹی دکان پر پھل فروخت کرتے ہیں اور 2 بچوں کے باپ ہیں۔
حملہ آور پر قابو پانےکی کوشش میں خود احمد کو بازو پر 4 سے 5 گولیاں لگیں، ہسپتال میں ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
اس واقعے کی ویڈیوز میں احمد کو دہشتگردی کا بے جگری سے مقابلہ کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ آسٹریلیا کے عوام اور میڈیا احمد کو متفقہ قومی ہیرو قرار دے رہے ہیں۔
احمد کی بے جگری کے ساتھ دہشتگرد کے مقابلہ کی کوشش کا سب سے بڑٓ فائدہ آسٹریلیا میں مقیم غیر ممالک سے آئے ہوئے لوگوں کو ہوا، ان سب کو غیر ملک سے تعلق رکھنے والے دہشتگردوں کا مقابلہ ایک غیر ملک سے آسٹریلیا آ کر آباد ہونے والے شہری نے کیا تو تعصب پھیلانے والوں کے منہ فوراً ہی بند ہو گئے۔
امریکہ کے صدر ٹرمپ نے بھی اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے دہشتگرد حملہ آورکو روکنے پر احمد کو بہادر قرار دیا اور کہا کہ یہ شخص قابل احترام ہے، اس بہادر شخص نے بہت سے لوگوں کی جان بچائی۔