ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ٹرمپ کا ایران پر مزید سخت معاشی پابندیوں کا عندیہ، چین بھی دباؤ میں آسکتا ہے

ٹرمپ کا ایران پر مزید سخت معاشی پابندیوں کا عندیہ، چین بھی دباؤ میں آسکتا ہے
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر معاشی دباؤ مزید بڑھانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن تہران کے خلاف سخت اقدامات کرے گا، جبکہ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ پہلے ہی اگلے ہفتے ایران کے خلاف غیر معمولی پابندیوں کا اشارہ دے چکے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق ایران کے خلاف امریکہ، اقوام متحدہ اور یورپی یونین پہلے ہی جوہری پروگرام، انسانی حقوق اور مسلح گروہوں کی حمایت سمیت مختلف معاملات پر پابندیاں عائد کر چکے ہیں۔ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے آغاز سے امریکی محکمہ خزانہ نے ایک ہزار سے زائد افراد، بحری جہازوں اور طیاروں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق فروری میں ایران جنگ شروع ہونے کے بعد واشنگٹن نے ایران کے خلاف سمندری، توانائی اور مالیاتی پابندیاں مزید سخت کیں اور آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت پر بھی دباؤ بڑھایا۔

رائٹرز کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے چین کی ان نجی ریفائنریوں کو بھی نشانہ بنا سکتی ہے جو ایرانی تیل خریدتی ہیں۔ چین ایران کے سمندری راستے سے برآمد ہونے والے تیل کا 80 فیصد سے زائد خریدتا ہے، جبکہ چینی آزاد ریفائنریاں اس تجارت کا بڑا حصہ جذب کرتی ہیں۔

امریکی پابندیوں کے ماہرین کے مطابق واشنگٹن ان چینی اداروں پر ثانوی پابندیاں عائد کرسکتا ہے جو ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھتے ہیں۔

امریکہ چین میں موجود بعض ایسے بینکوں کے خلاف بھی کارروائی پر غور کرسکتا ہے جن پر ایرانی تیل سے حاصل ہونے والی رقوم کی منتقلی اور ایران کی مالی معاونت میں مدد کے الزامات ہیں۔

تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بڑے چینی بینکوں کو نشانہ بنانے سے واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان کشیدگی بڑھ سکتی ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب دونوں ممالک کے درمیان اہم تجارتی معاملات پر بات چیت جاری ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ ایران کے ایسے افراد اور کمپنیوں کے خلاف بھی کارروائی جاری رکھ سکتی ہے جو پابندیوں سے بچنے میں تہران کی مدد کر رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران پر مزید تیل، شپنگ، کرنسی ایکسچینج اور فضائی شعبے سے متعلق پابندیاں عائد کیے جانے کا امکان موجود ہے۔

رائٹرز کے مطابق ایک ممکنہ آپشن ایران کے گرد زمینی ناکہ بندی بھی ہے، تاہم اس کے لیے عراق، ترکی، پاکستان، افغانستان، ترکمانستان، آذربائیجان اور آرمینیا سمیت پڑوسی ممالک کے تعاون کی ضرورت ہوگی، جسے ماہرین مشکل قرار دیتے ہیں۔

دوسری جانب ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر اضافی ٹیرف عائد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے، تاہم اس حوالے سے امریکی قانون سازی کے عمل میں ابھی مزید مراحل باقی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف امریکی معاشی دباؤ میں اضافے سے عالمی تیل منڈی، چین کے ساتھ امریکی تعلقات اور خطے کی تجارت پر بھی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔