ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سموگ تدارک کیس ، شیرانوالہ اور ٹیکسالی گیٹ پراجیکٹ پر حکم امتناعی میں توسیع

 سموگ تدارک کیس ، شیرانوالہ اور ٹیکسالی گیٹ پراجیکٹ پر حکم امتناعی میں توسیع
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ  نے ٹریفک پولیس کے  شہریوں کو غیر ضروری طور پر پریشان کرنے پر اظہار ناراضگی  کیا اور  آئندہ سماعت پر ٹریفک پولیس کے سنئیر زمہ دار افسر کو پیش ہونے کا حکم دے دیا ، جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ ٹریفک پولیس کا شہریوں کو غیر ضروری طور روکنا ایک غیر قانونی عمل ہے،  عدالت نے شیرانوالہ گیٹ اور ٹیکسالی گیٹ پراجیکٹ روکنے کے متعلق جاری حکم امتناعی میں توسیع کردی ۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے سموگ تدارک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ غیر ضروری طور پر لوگوں کو روکنے سے ٹریفک میں خلل اور حادثات کا خدشہ ہوتا ہے، اگر کسی شہری کو بغیر کسی خلاف ورزی کے روکے جانا شہری آزادیوں کو سلب کرنے کے مترادف ہے، ٹریفک پولیس خلاف ورزی کرنے والوں کو اکثر روکنے میں ناکام رہتی ہے،غیر ضروری طور پر  لوگوں کو روکنے سےیونے والے   ٹریفک  جام سے دھواں  میں اضافہ ہو جاتا ہے،  ممبر ماحولیاتی کمیشن سید کمال حیدر نے کیس کی سماعت بارے سٹی فورٹی ٹو سے گفتگو بھی کی جسٹس شاہد کریم  نے سموگ تدارک کے متعلق کیس کی سماعت کی،  شہر میں زیر زمین پانے کے گرتے ہوئے لیول کے حوالے سے واسا کی رپورٹ پیش  کی گئی ، واسا کے وکیل میاں عرفان اکرم نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی احکامات کی وجہ سے ایک سال میں صرف تقریبا ایک سنٹی میٹر کم ہوا ہے، عدالتی احکامات کی روشنی میں واسا اپنے بجٹ سے دس ہزار واٹر میٹر لگا رہا ہے۔

جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ زیر زمین پانی کے لیول کو بڑھانے کے لئے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ، ممبر ماحولیاتی کمیشن   کی جانب سے رپورٹ  پیش کی گئی  اور عدالت کو بتایا گیا کہ نورپورخوشاب میں بننے والی سڑک پر گیارہ ہزار درختوں کے بارے میں رپورٹ پیش کی گئی ،گیارہ ہزار میں سے آٹھ ہزار درخت بچانے کے لئے سڑک کو ری ڈیزائن کردیا گیا ، جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے ,فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ کا اجازت دینے کا این او سی پیش کریں ، اس کے خلاف کاروائی کی جائے گی ، ممبر ماحولیاتی کمیشن نے عدالت کو بتایا شیخوپورہ میں چلنے والے بھٹوں  پر کالا دھواں نکلنے کی شکایات کا سپیشل ٹیم نے جائزہ لیا ، موقع پر کوئی خلاف ورزی نہیں پائی گئی ، ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات علی اعجاز نے عدالت کو بتایا کہ زگ زیگ کے باوجود کالا دھواں دینے والے بھٹوں کو جرمانہ کیا جاتا ہے، عدالت نے ریمارکس دیے کہ سموگ سے پہلے محکمہ ماحولیات کو بھٹوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے ،  ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات نے کیس کی سماعت بارے سٹی فورٹی ٹو سے گفتگو بھی کی۔

جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ ڈی جی پی ایچ اے  درختوں کے ٹرانسپلانٹ کے حوالے سے بننے والے قوانین کو پورے پنجاب میں عمل درآمد کروائیں ، پی ایچ اے کو رونیو اکٹھا کرنے کے حوالے سے سائنسی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے،پی ایچ اے کو اس حوالے سے اچھے کنسلٹنٹ سےمدد لینے کی ضرورت ہے ، پی ایچ اے اپنے قوانین کو رونیو جنریشن کے حوالے سے تبدیل کرلے،  سیکرٹری ماحولیاتی کمیشن  فرحان سعید نے سٹی فورٹی ٹو سے گفتگو بھی کی ,عدالت میں پنجاب حکومت ، ممبر ماحولیاتی کمیشن ، ایل ڈی اے ، پی ایچ اے کے وکیل پیش ہوئے ،ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات علی اعجاز سمیت دیگر بھی پیش ہوئے ،عدالت نے کیس کی مزید سماعت 23 اپریل تک ملتوی کردی. 

Ansa Awais

Content Writer