روزینہ علی:وزارتِ خزانہ پاکستان نے قومی اسمبلی میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کر دی ہے.
جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ خطے کی غیر یقینی صورتحال کے باعث ملکی معیشت کو منفی خطرات لاحق ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اگر بیرونی حالات میں یہ دباؤ برقرار رہتا ہے اور عالمی معاشی منظرنامہ متاثر ہوتا ہے تو اس کے پاکستان کی معیشت پر مزید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ وزارت خزانہ نے بتایا کہ حکومت صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے اور بروقت پیشگی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ ممکنہ اثرات کو کم کیا جا سکے۔
وزارتِ خزانہ پاکستان کا کہنا تھا کہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ سے قبل آئندہ اے پی سی سی اور این ای سی کے اجلاس بلائے جائیں گے، جن میں میکرو اکنامک فریم ورک کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا۔
وزیراعظم کی ہدایات کے تحت پٹرولیم کی روزانہ فراہمی کی نگرانی کیلئے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی گئی ہے جو اضافی کارگو کے حصول، سپلائی میں تعطل کی روک تھام اور ایندھن کی بچت کے اقدامات کا جائزہ لے رہی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ پٹرولیم لیوی کی وصولی کا انحصار پٹرولیم مصنوعات کے استعمال پر ہے، جبکہ جولائی 2025 سے اپریل 2026 تک اس مد میں 1,342 ارب روپے جمع کیے گئے ہیں۔
اسی طرح بجٹ میں منظور شدہ اخراجات کے تحت پسماندہ گھرانوں کے تحفظ کیلئے مختلف پروگرامز شامل ہیں، جن میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام بھی شامل ہے، جس کیلئے مالی سال 2026 کے بجٹ میں 716 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔