سٹی 42 : تھانہ ارمڑ کی حدود میں ہونے والے دھماکے میں مفتی منیر شاکر جاں بحق ہو گئے۔
پولیس کے ایک اہلکار کے مطابق، عالم مفتی منیر شاکر ہفتے کے روز پشاور میں ہونے والے ایک دھماکے میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے
پولیس ترجمان کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ ارمڑ تھانے کے قریب پیش آیا اور مفتی شاکر کو دھماکے میں بائیں پاؤں پر چوٹ آئی تھی جو جان لیوا ثابت ہوئی۔ اس میں بتایا گیا کہ واقعے میں زخمی ہونے والے دیگر تین افراد خوشحال، عابد اور سید نبی ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ پولیس، بم ڈسپوزل یونٹ اور محکمہ انسداد دہشت گردی کے اہلکار جائے وقوعہ پر موجود ہیں اور شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
لشکر اسلام – باڑہ میں قائم ایک عسکریت پسند تنظیم نے خیبر کے قبائلی علاقے تیراہ میں اپنی متوازی حکومت بنا لی تھی جس کی قیادت منگل باغ کر رہا تھا۔ –اس تنظیم کو 2008 میں غیر قانونی قرار دے دیا گیا تھا۔ منگل باغ بعد میں مارا گیا تھا۔ مفتی شاکر بعد میں ریاست پاکستان کی سارے علاقوں مین رٹ قائم رکھنے کے حامی ہو گئےتھے،
پولیس کے مطابق پشاور کے علاقے میں مدرسہ کے باہر دیسی ساختہ بم کا دھماکہ ہوا، مسجدکے قریب دیسی ساختہ بم نصب تھا، دھماکے میں مفتی منیر شاکر سمیت 4 افراد زخمی ہوئے، جنہیں لیڈی ریڈینگ ہسپتال لے جایا گیا۔ بعد ازاں ہسپتال نے مفتی منیر شاکر کے مرنے کی تصدیق کردی ہے۔
دیگر زخمیوں میں خوشحال، عابد اور سید نبی شامل ہیں ۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور مفتی شاکر ہدف تھا، تاہم مزید شواہد اکٹھے کئے جارہے ہیں ۔
باڑہ میں مقامی عالم، مفتی شاکر نے دسمبر 2004 میں سپاہ اور ملک دین خیل قبائل کے لوگوں کی جانب سے مفتی شاکر کی مکمل بیعت کے اعلان کے بعد لشکر اسلام تشکیل دیا تھا۔ تاہم، مولوی کو اس کے انتہا پسندانہ خیالات اور علاقے کے ایک اور عسکریت پسند کمانڈر حاجی نامدار کے ساتھ اختلافات کی وجہ سے صرف چھ ماہ کے بعد بار قمبر خیل کے علاقے سے بے دخل کر دیا گیا۔
2005 کے اوائل میں دونوں کے حامیوں کے درمیان خونریز جھڑپوں کے بعد مقامی عمائدین کے ایک جرگہ نے متفقہ فیصلہ دینے کے بعد مفتی شاکر اور پیر سیف الرحمان دونوں کو باڑہ چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ منگل باغ، ایک بس ڈرائیور سے عسکریت پسند بنا، وہ مفتی شاکر کے علاقہ چھوڑنے کے بعد مئی 2005 میں لشکر کے امیر (سربراہ) بن گیا تھا۔
2005 کے وسط میں لشکر اسلام کے خلاف پہلی فوجی کارروائی شروع کرنے کے بعد پاکستانی سکیورٹی فورسز نے حاجی رباط کے گھر کو مسمار کر دیا اور ایک مسجد میں قائم ایف ایم ریڈیو سٹیشن کو تباہ کر دیا تھا۔