پنجاب اسمبلی نے آب پاک اتھارٹی کی منظوری دیدی

پنجاب اسمبلی نے آب پاک اتھارٹی کی منظوری دیدی
City42 - Punjab Assembly

(علی اکبر) پنجاب اسمبلی نے آب پاک اتھارٹی پنجاب کی منظوری دیدی،گورنر پنجاب کو اتھارٹی کا پیٹرن انچیف بنانے پر اپوزیشن  نےبل کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کردیا۔

 پنجاب اسمبلی کا اجلاس اسپیکر چودھری پرویز الٰہی کی زیر صدارت 2 گھنٹے 10 منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا، اجلاس میں آب پاک اتھارٹی کی منظوری دی گئی۔ وزیر قانون محمد بشارت راجہ نے ایوان کو بتایا کہ اتھارٹی میں 9 رکنی گورننگ باڈی ہوگی جبکہ اتھارٹی کا چیئرمین پیٹرن انچیف کی مشاورت سے نامزد کیا جائے گا۔

 بل کی مخالفت میں ن لیگ کے ملک احمد خان نے کہا کہ آئین کے مطابق گورنر کسی صوبائی کمیٹی کا ممبر نہیں بن سکتا,گورنر وفاق کے نمائندہ ہیں, سمیع اللہ خان اور عظمی بخاری نے کہا کہ گورنر کو سربراہ بنانے سے نیا پنڈورا بکس کھل جائے گا، اس کیخلاف عدالت جائیں گے۔

وزیرقانون بشارت راجہ نے کہاکہ ماضی میں ایک ہی دن میں بل ایوان میں پیش اور منظور کیے جاتے رہے ہیں، یہ بل قائمہ کمیٹی نے منظور کیا ہے، جس کے چیئرمین سابق سپیکر رانا اقبال ہیں۔ اسپیکر چودھری پرویز الہٰی کی جانب سے مذکورہ بل پر ایوان میں ووٹنگ کروائی گئی جس کے بعد اکثریت رائے سے آب پاک اتھارٹی کی منظوری دیدی گئی۔

 وقفہ سوالات کے دوران وزیر آبپاشی محسن لغاری نے بتایا لاہور کینال میں کسی بھی جگہ سیوریج کا پانی نہیں ڈالا جارہا، صرف دو مقامات پر واسا لاہور نے برساتی پانی کی نکاسی کے لیے ڈسپوزل پمپس لگائے ہیں تاہم اگر کسی موقع پر اس میں سیوریج کا پانی شامل ہونے کی شکایت ملے تو اس کوفوراً بند کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا لال پل ریلوے، دھرم پورہ نذر رائل پام گالف کلب کے قریب یہ ڈسپوزل پمپس لگائے گئے ہیں۔