علی رامے : پنجاب حکومت کا سب سے بڑا منصوبہ صوبے میں معاشی ترقی کا پلان ہوگا ۔
نئے مالی سال میں معاشی تبدیلی حکومت کا سب سے بڑا ہدف قرار دیا گیا ہے۔ حکومت نے 1220 ارب کا ماسٹر اکنامک پلان” تیار کرلیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کی خصوصی ہدایت پر میگا اکنامک پلان پر فوکس ہوگا۔ پنجاب ویلتھ فنڈ کے قیام کیلئے 700 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ پنجاب انفراسٹرکچر اینڈ گارنٹی فنڈ کیلئے 300 ارب روپے کا پلان تیار کیا گیا ہے۔
جنوبی پنجاب میں نئی انڈسٹریل کلسٹرز اور ایگرو پروسیسنگ زونز قائم ہوں گے۔ فوڈ ایکسپورٹ اور ایگرو انڈسٹری کو فروغ دینے کیلئے بڑے اقدامات تجویز دی گئی ہے۔ پنجاب کو جدید صنعتی اور ٹیکنالوجی بیسڈ معیشت میں تبدیل کرنے کا منصوبہ، آئی ٹی انفراسٹرکچر اور ڈیٹا سینٹرز کیلئے 30 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اسکے علاوہ پاور سیکٹر ریفارمز اور نجی سرمایہ کاری پر 30 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت سرمایہ کاری بھی معاشی پلان کا حصہ ہوگا۔ حکومت کا اکنامک ٹرانسفارمیشن پلان بجٹ کا “فلیگ شپ ویژن” ہوگا۔ صنعتوں کی ترقی کے لیے پانچ ارب روپے تک قرض دیا جاسکے گا۔ چھوٹی صنعتوں کو بھی حکومت مالی معاونت فراہم کرے گی۔